خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 739
خطبات طاہر جلد ۱۱ 739 خطبه جمعه ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۲ء نے ایک دن دو آدمیوں یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک اور شخص کا سہارا لے کر باہر نکلے، اس حال میں کہ آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کیا الله کرتی تھیں کہ رسول کریم ﷺ میرے گھر میں آئے اور بیماری مزید بڑھی تو فرمایا کہ مجھ پر سات مشکیزوں کا 6* پانی بہاؤ جو بھرے ہوئے ہوں۔ایسی شدت سے، بخار کی تپش کی ایسی شدت کے ساتھ اُس بخار میں آپ مبتلا تھے کہ فرمایا سات مشکیزوں کا پانی بہاؤ جو بھرے ہوئے ہوں اور اُن کے بندھن کھولے نہ گئے ہوں، کچھ بھی پہلے استعمال نہ ہوا ہوتا کہ مجھے کچھ افاقہ ہو جائے اور لوگوں سے باتیں کر سکوں۔تب ہم نے حضرت اقدس ﷺ کو ایک ٹب میں بٹھایا اور آپ پر مشکیزوں سے پانی بہانا شروع کیا۔یہاں تک کہ آپ ہاتھ سے اشارہ فرمانے لگے کہ بس بس کافی ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں پھر آپ لوگوں کی طرف تشریف لے گئے اور انہیں نماز پڑھائی اور خطاب فرمایا۔یہ نماز کا شوق تھا دراصل جس کی خاطر آپ نے بخار کو اس طرح اتارا اتنی سخت تپش تھی کہ سات مشکیزوں کا پانی آپ پر بہایا گیا اور اس طرح جب بخار کم ہوا تب آنحضور ﷺ اپنی دیرینہ خواہش کو پورا کر سکے جو بیماری کے دنوں میں پیدا ہوئی تھی۔اس لحاظ سے دیر بینہ کہ آپ باہر جا کر سب میں بیٹھ کر عبادت کر سکیں اور انہیں نصیحت فرما سکیں۔ابن شہاب سے روایت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے بتایا کہ پیر کا دن تھا جس دن حضور کی وفات ہوئی تھی۔یہ آخری دن ہے مرض الموت کا۔مسلمان فجر کی نماز میں مسجد نبوی میں مصروف تھے اور ابو بکر نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک حضور نے اُس وقت جب دو صفوں میں نمازی نماز میں کھڑے تھے حضرت عائشہ کے حجرہ کا پردہ اٹھایا اور کچھ دیکھ کر مسکرائے اور ہنس دیئے اور وہ سب چونک گئے۔حضور نے انہیں اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اپنی نماز مکمل کرو۔پھر حضور حجرے کے اندر ہو گئے اور پردہ گرا دیا۔اس قدر شدید تکلیف تھی اُس وقت کہ دوسری احادیث سے جس میں آپ کے مرض الموت کے آخری دن کا نقشہ کھینچا گیا ہے پڑھ کر دل سُن ہو جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی تکلیف کا حال پڑھ کر کہ کس طرح کسی سخت تکلیف سے آپ اس دنیا سے اس وجہ سے رخصت ہورہے تھے صرف بخار کی تکلیف نہیں تھی بلکہ یہ تکلیف تھی کہ میرے پیچھے کیا ہوگا اور لوگ کہیں یہ نہ کر لیں وہ نہ کر لیں۔چنانچہ آپ کی آخری وقت کی نصیحتیں اسی مضمون پر مشتمل تھیں اور سب سے زیادہ جو غالب چیز تھی وہ یہ تھی کہ جن