خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 733
خطبات طاہر جلد ۱۱ 733 کرو۔اگر تم ایسا کرو گے تو اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ خطبه جمعه ۱۶ اکتوبر ۱۹۹۲ء (ترمذی کتاب الجمعہ حدیث نمبر : ۵۵۹) پھر حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں۔کہ آنحضرت ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر کسی کے دروازے کے پاس نہر گزر رہی ہو اور وہ اس میں دن میں پانچ بارنہائے تو اس کے جسم پر میل رہ جائے گی۔صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! کوئی میل نہیں رہے گی۔آپ نے فرمایا یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہ معاف کرتا ہے اور کمزوریاں دور کرتا ہے (مسند احمد حدیث نمبر: ۱۳۷۵۷) مختلف ماحول کے مختلف اثرات ہوا کرتے ہیں۔بعض ماحول میں مادی کثافت بہت ہوتی ہے اور کپڑے بار بار گندے ہوتے ہیں۔انگلستان میں مجھے یاد ہے ایک زمانے میں Smog ہوا کرتی تھی۔دھوئیں ملی ہوئی Smog اور اُس سے کالر اتنی جلدی گندے ہوا کرتے تھے کہ دن میں بار بارلوگوں کو کالر بدلنے پڑتے تھے۔قمیض بدلنے کی توفیق نہیں ملتی تھی دوسرے وہ کوٹ کے اندرہی ہوتی تھی تو ایک وقت میں دو دو کالر لے کر لوگ گھر سے نکالا کرتے تھے۔جب پہلا گندہ ہو جائے تو دوسرا استعمال کریں گے تو یہاں ان ملکوں میں مادی Pollution بھی پھیل رہی ہے اس کے لئے لازمی جماعت کو کوشش کرنی چاہئے مگر روحانی Pollution اتنی ہے کہ اگر کہیں دن میں پانچ بار نہانے کی ضرورت ہے تو یہاں بہت ضرورت ہے کہ دن میں پانچ پانچ بار نہایا جائے۔پس وہ گھر جو نمازوں کو زندہ کرتے ہیں جہاں دن میں پانچ بار نہانے کے لئے چھوٹی چھوٹی اپنی نہریں جاری کی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ اُن کو اس دنیا کی کثافت سے محفوظ رکھے گا۔اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو یہ تاریکی اور گند آپ کے گھروں میں داخل ہو گا اور آپ کی روحوں کو نا پاک کر دے گا۔پھر اُس وقت مجھے ماں باپ اگر دیکھیں کہ ہمارے بچوں کو کیا ہو گیا ہے، یہ دین کو چھوڑ کر دوسری طرف چل پڑے ہیں تو اُس وقت میں اُن سے کہوں گا کہ بہت دیر ہو چکی۔تمہیں پہلے اپنا فرض ادا کرنا چاہئے تھا، پہلے اپنے گھر میں وہ پانی جاری کرنا چاہئے تھا جو نماز اور عبادتوں کا پانی ہے جس میں پانچ وقت نہا کر تمہارے بچے صاف ستھرے رہتے تو دنیا کی کوئی آلودگی اُن کو گندا نہ کر سکتی۔یہ ملک وہ ہیں