خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 721
خطبات طاہر جلدا 721 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء مضمون کو سمجھ کرختی کرنا ضروری ہے، جہاں نرمی کا حکم دیا ہے وہاں مضمون کو سمجھ کر نرمی کرنا ضروری ہے۔آنحضرت ﷺ کی سختی اور نرمی کے واقعات ہمارے سامنے ہیں۔بعض دفعہ ایسی سختی کی ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ایک شخص جس نے اموال کے متعلق آنحضور عاللہ سے دعا کروائی کہ یا رسول الله میرے لئے دعا کریں میرے اموال میں برکت ہو، میں بھی پھر دل کھول کر چندے دوں۔جب اس کے اموال میں برکت پڑ گئی اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے نمائندے اُس سے چندہ وصول کرنے یا ز کوۃ وصول کرنے گئے تو اس نے کہا آجاتے ہیں زکوۃ وصول کرنے والے، یہ تو دیکھتے ہو کہ کیا کچھ ہے یہ نہیں پتا کہ کتنے خرچ ہیں کتنی مصیبتیں ہیں۔سوطرح کی اُس نے باتیں بنائیں۔جب آنحضرت ﷺ کو اسکا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ آئندہ اس سے کبھی چندہ وصول نہیں کیا جائے گا۔اس کے متعلق آتا ہے کہ وہ سال بہ سال پشیمان ہو کر۔بھیڑوں کے اور دوسرے مویشیوں کے غلے کے غلے ہانک کر لاتا تھا اور ہر دفعہ رد کر دیا جاتا تھا یہاں تک کہ اتنی تعداد بڑھ گئی کہ چندہ جو اس کے مال میں شامل ہو گیا۔کہ کہتے ہیں وادی پوری کی پوری ان مویشیوں سے بھر صلى الله جایا کرتی تھی مگر نہ آنحضرت ﷺ نے قبول فرمایا نہ آپ ﷺ کے بعد آپ کے خلفاء میں سے کسی نے بھی قبول فرمایا۔(تفسیر در منثور ،سورة التوبه صفحه ۳) تو مواقع ہیں ، ان مواقع کے مطابق کام کرنا چاہئے اور اس آیت نے دیکھیں کتنی عمدہ تمہید باندھ دی ہے اس بات کی۔عضو کی ہدایت فرمائی ، درگزر کی ہدایت فرمائی ، لیکن اس سے پہلے یہ مضمون بیان فرمایا۔يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِه جو بد بخت لوگ ہیں وہ ہیں جو ایک بات کو اُس کے محل کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔وہ جو خدا کے پاک بندے ہیں۔وہ ہر بات کو موقع اور محل کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔پس جہاں عفو اور درگزر کا موقع ہے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ وہاں عفو فر مائی اور درگزر سے کام لیا۔جہاں خدا کی خاطر سختی کا موقع تھا۔وہاں سختی سے رکے نہیں اور ساری زندگی آپ ﷺ کی سنت سے یہی ثابت ہے۔پس میں چاہتا تھا کہ غلط فہمی کو اگر یہ پیدا ہوگئی ہو دور کر دوں۔عام حالات میں نرمی ،مغفرت ، رحمت سے نہیں روکا گیا کیونکہ دراصل خیانت کا مضمون اتنا وسیع ہے کہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں اچھے بھلے نیکوں سے بھی کہیں نہ کہیں خیانتیں ہوتی رہتی ہیں۔کہیں نظر لڑکھڑا گئی اور نظر خائن ہوگئی کہیں گفتگو بگڑ گئی اور الله