خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 720 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 720

خطبات طاہر جلدا 720 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء خدا کے تقاضوں کو اور وعدوں کو توڑ دیا تو دل سخت ہو گئے اور پھر اُس کا اگلا قدم یہ اٹھایا گیا کہ بنی نوع انسان کو خدا کے نام پر خدا کے کلام سے دھوک ، دھوکہ دینے لگے ۔ وَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ اور بعض باتیں جو ان پر ذمہ داریاں ڈالتی تھیں ان کو تو بھول ہی گئے ۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں خیانت جن کی عادت بن چکی ہے۔ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَى خَابِنَةٍ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْهُمُ اور تو روز مرہ ان کی خیانتوں کی خبریں سنے گا، ان کی خیانتوں پر اطلاع پائے گا۔ کیونکہ سینکڑوں سال سے اس بات میں مصروف ہیں ان کی عادت مستمرہ ہے۔ جس طرح چور کو چوری کی لت پڑ جاتی ہے جھوٹے کو جھوٹ کی لت پڑ جاتی ہے۔ تو اُس کی چھوٹی موٹی چوریاں چور کی چھوٹے موٹے جھوٹ نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔ یہی وہ مضمون ہے کہ ان کا تو حال ہی بہت برا ہے۔ تو ان سے کیا توقع رکھتا ہے شاذ ہی ہیں ان میں سے جو امانت دار ہیں۔ ان سے کیا سلوک فرما۔ فرمایا فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحُ ان سے عفو کا سلوک کر ۔ چھوٹی موٹی باتوں سے یہ مراد نہیں کہ بڑی بے غیرتیاں جو دین میں کرتے ہیں اُس پر خاموشی اختیار کر۔ مراد یہ ہے عادی جو مجرم ہیں روزمرہ کی باتوں میں کہاں تو ان کو پکڑے گا اس لئے عام غفلتوں میں عام خیانتوں میں ان سے درگزر سے کام لے۔ وَاصْفَحُ اور نظر انداز کر دیا کر۔ واصْفَح کا مضمون ایسا ہے جیسے آپ کسی بچے کو غلطی کرتے دیکھ رہے ہوں اور جان کے نظر چرا لیں تا کہ اسکو یہ بھی نہ پتا لگے کہ میں پکڑا گیا ہوں ۔ تو عفو کا ایک بہت ہی پیارا انداز ہے کہ غلطی دیکھنے کے باوجود اس سے آنکھیں بند کر لینا۔ مگر یہ وہ غلطی نہیں ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ دین کے معاملے میں امانت امانت دار شخص جس کے سپر د خدا کا مال کیا جاتا ہے۔ وہ اس مال کو کھا رہا ہے اور آپ اس آیت سے استنباط کی کوشش کرتے ہوئے یہ کہیں کہ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو بھی تو فرمایا تھا کہ ان کی خیانتوں پر درگزر کیا کر اور آنکھیں پھیر لیا کر تو ہم بھی تو یہی کرتے ہیں۔ اگر وہ یہ کرتے ہیں تو حقیقت وہ یہ کر رہے ہیں جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اسی آیت میں یعنی يُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مواضعہ وہ قرآن کریم کی ایک آیت کا منطوق سمجھتے ہوئے بھی اُس کو بے محل استعمال کرتے ہیں اور اُسے توڑ مروڑ کر اُس سے ناجائز مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے اور یہ سخت دلوں کی ادائیں ہیں مومنوں کی ادائیں نہیں ہیں۔ پس قرآن کریم نے جہاں سختی کا حکم دیا ہے وہاں