خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 716 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 716

خطبات طاہر جلد ۱۱ 716 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء لوگوں سے نرمی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مرضی کے تابع ان کے ساتھ سختی کا سلوک ہونا چاہئے سختی سے مراد یہ ہے کہ ان کو جس حد تک اصلاحی ذریعہ اختیار کرنا ضروری ہے کرنا چاہئے۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر قسم کے خائن کی ہر خیانت نا قابل معافی ہے۔قرآن کریم سے ثابت ہے کہ بعض خَابِنِین کی خیانتوں سے متعلق خود اللہ تعالیٰ نے آنحضرت مہ کو ارشاد فرمایا کہ ان کو معاف فرما اور ان سے درگزر سے کام لے۔اس لئے میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میرے ذہن میں وہ کونسے مواقع تھے جن سے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ معافی کا حق نہیں ہے یعنی اس موقعہ پر معافی کا حق نہیں۔آئندہ تو بہ کرنے والوں کے لئے تو خدا کے فضل سے معافی کے دروازے ہمیشہ کیلئے کھلے ہیں۔مثلاً مجھے خدا تعالیٰ نے بعض چیزوں کا امین بنایا ہے ان میں میں بھی اس بات کا مجاز نہیں ہوں کہ اس امانت کو نظر انداز کرتے ہوئے ، اس کے تقاضے نظر انداز کرتے ہوئے ، ذاتی طور پر اپنی دل کی نرمی سے کچھ فیصلے کروں۔چنانچہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے جیسا کہ بعض جرموں کی سزا کے وقت قرآن کریم نے متنبہ فرمایا ہے کہ ہم جانتے ہیں تم لوگوں کے دل نرم ہیں کیونکہ رؤف رحیم کے غلام ہو، محمد رسول اللہ ﷺ کی پرورش میں ہو، تو تمہارے دلوں کی نرمی اس سزا کی راہ میں حائل نہ ہو۔اُس میں حکمت یہ ہے کہ وہ امانت ہے ایک قسم کی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے واضح طور پر ایک حکم آتا ہے یا بعض ایسی صورتیں پیش ہوتی ہیں جن میں ایک انسان مالک کے طور پر فیصلہ نہیں کر سکتا بلکہ امین کے طور پر مجبور ہے وہاں معافی کا کوئی حق نہیں ہے۔مثلاً جو لوگ اپنے اس عہد میں خیانت کرتے ہیں کہ قضاء کے پاس جاتے ہیں قضاء سے فیصلہ کروانے کیلئے اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں اور بیچ میں سے نیت بھی دراصل یہ ہوتی ہے کہ اگر ہمارے حق میں فیصلہ ہو جائے تو بسم اللہ ہم اُسے قبول کریں گے اور اگر فریق ثانی قبول نہ کرے گا تو نظام جماعت کو مجبور کریں گے کہ اُس سے زبردستی یہ فیصلہ منوایا جائے اور ہمارے حق میں جو بھی حقوق بنتے ہوں وہ ادا کئے جائیں لیکن اگر قضاء خلاف فیصلہ کر دے تو ہم شور مچائیں گے کہ یہ نا انصافی ہے یہ تقویٰ کے خلاف ہو گیا ہے اور ہم جماعت سے تعاون کرنے سے انکارکر دیں گے۔ایسی تمام صورتوں میں میں بھی تو ایک امین ہوں، میں نے بھی خدا کو جواب دینا ہے اور خدا کی یہ امانت ہے میرے سپرد کہ قضاء کے احترام کو قائم کروں اور خدائی فیصلوں کو یکساں ان پر عمل درآمد کرواؤں۔سوائے اس کے کہ کوئی اپیل آئے میرے پاس اور وہ فیصلہ بدلا جائے جب تک