خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 715 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 715

خطبات طاہر جلدا 715 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء نے اپنی والدہ کو جو امریکہ میں ہیں ان کی والدہ ، ان کے والد فوت ہو چکے ہیں ، جو حضرت مسیح موعود کے صحابی کے پوتے کے بیٹے تھے۔چنانچہ اُن کی وفات کے بعد مکرم و محترم شیخ مبارک احمد صاحب سے ان کی والدہ کی شادی ہوئی) چنانچہ انہوں نے یہ بتایا کہ میں نے اپنی والدہ کو فون کیا اور بتایا کہ میرے دو بھائی وقف کر چکے ہیں میں تیسرا ہوں اور میری بھی خواہش ہے۔تو والدہ نے کہا کہ اور اس سے زیادہ کیا چاہئے میری اپنی یہی خواہش تھی کہ میرے تینوں بیٹے خدمت دین پر استعمال ہوں۔تو ضرور کرو، چنانچہ ایک ماں کے یہ تینوں بچے خدا تعالیٰ کے فضل سے اس میدان میں آگے بڑھ چکے ہیں۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ باقی جو دنیا کی مخلصین ہیں وہ بھی اس نیک مثال کی پیروی کرتے ہوئے کوشش کریں گے کہ اپنے خاندان کا ایک حصہ ان ملکوں میں آباد کر دیں کیونکہ حقیقت میں جب تک وہاں مستقلاً بیٹھا نہ جائے اُس وقت تک خط و کتابت کے ذریعہ تجارتوں سے اتنا فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔دنیاوی فائدہ تو کسی حد تک تو ہو جائے گا لیکن جو دینی مقاصد اس کے ساتھ ملحق ہیں وہ نہیں پورے ہو سکتے۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اس سلسلہ میں بھی مختلف خاندان اپنے نمائندے خود بھیجیں گے اور خود فیصلہ کریں گے کہ کس ملک میں اُن کا بیٹھنا وہاں رہ جانا بہتر ہوگا اور کیا طریق اختیار کیا جائے۔اس سلسلہ میں جماعت پر بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ خاندان یہ بوجھ خود اٹھائیں۔ہاں اگر مشورہ کرنا چاہتے ہوں کہ ہمیں کہاں جانا چاہئے۔تو اس سلسلہ میں ہم انشاء اللہ ان کو ضرور مشورہ دیں گے۔ان تینوں بھائیوں نے تو مجھ پر چھوڑ دیا تھا کہ ہمیں جہاں چاہتے ہیں وہاں وہاں آباد کر دیں۔چنانچہ ان کے لئے جگہیں متعین ہو چکی ہیں۔انشاء اللہ عنقریب یہ لوگ اپنے اپنے آئندہ ملکوں میں جو اللہ ان کا وطن بنایا جارہا ہے اُن میں جا کر یہ انشاء اللہ خوب اچھی طرح اپنے اور اسلام کے قدم مضبوط کریں گے۔تو باقی دوست بھی جو مشورہ چاہتے ہیں انشاء اللہ ان کو بھی مشورہ دیا جائے گا۔اب میں گزشتہ مضمون کو پھر سے شروع کرتا ہوں ، وقت تھوڑا رہ گیا ہے ،لیکن جتنا ہواُتنا ہی انشاء اللہ تعالیٰ بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔سب سے پہلے میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے خَابِنِینَ سے معافی کے سلوک سے متعلق گفتگو کی تھی اور یہ کہا تھا کہ بعض خائنین ایسے ہیں جن کو میں معاف نہیں کرتا، تو بعض لوگ مجھے اس سے سفارشیں کرتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ قرآن مجید میں تو یہی بتایا ہے کہ ایسے