خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 714 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 714

خطبات طاہر جلدا 714 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء اور دل وغیرہ کی غذا کی طرف توجہ کم رہی۔اسی وجہ سے یہ نظام بالآخر نا کام ثابت ہوا۔اور اب جبکہ سب کچھ کھلا کھلا دکھائی دینے لگا ہے تو جن جن اعضاء میں ان کی کمزوریاں ہیں وہ بالکل سامنے آگئی ہیں اور یہ خود اب اس بات کے خواہشمند ہیں کہ تمام ممالک کے خواہ وہ پسماندہ ہوں جیسے بھی ہوں وہ لوگ وہ افراد جو مدد کی اہلیت رکھتے ہیں ہماری مدد کریں۔تو میں سمجھتا ہوں کہ اس میدان میں بھی جو ایک قسم کا خدمت کا جہاد ہے جماعت احمدیہ کوصف اول پر رہنا چاہئے۔تجارت کے سلسلہ میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ انگلستان کی جماعت سے فوری طور پر قربانی کی بہت اعلیٰ مثالیں سامنے آئی ہیں۔چنانچہ وہ وفد جو Belorussia بھجوایا گیا تھا اُس میں فہیم بھٹی صاحب ہماری جماعت انگلستان کے مخلص کارکن ہیں جو Cassets کے انتظام کے بھی سر براہ ہیں یہ اور ان کے ساتھی بھٹی خاندان کے نوجوان مل کر ساری دنیا کوفور أCassets بھجوانے کا انتظام کرتے ہیں انہوں نے مجھے یہ پیشکش کی، یعنی رپورٹ جب ہوگئی اور زبانی باتیں ہو گئیں، اس کے بعد یہ پیشکش اس طرح کی کہ اپنی بیوی اپنے بچوں کو ساتھ لے کر آئے اور کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ یہ وقت ہے کہ خدمت دین کیلئے اپنے سارے خاندان کو بیچ میں جھونک دو تو میں پیشکش کرتے ہوئے ان کو ساتھ لایا ہوں۔آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ یہ اپنے آپ کو اس میدان میں جھونکنے کیلئے خوب تیار ہو کر آئے ہیں۔چنانچہ اللہ کے فضل سے اُن کی بیگم نے بھی اُسی طرح اُن کے ساتھ اور بڑی خوشی کے ساتھ کہا کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم وہیں جا کر بیٹھ جائیں گے وہیں کے ہور ہیں گے ، انگلستان میں سب کچھ سب اثاثے ختم کر کے ہم وہاں جانا چاہتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر صحیح معنوں میں اُن کی خدمت ہو نہیں سکتی۔دور بیٹھ کے تجارتوں کے ذریعہ وہ بات نہیں بن سکتی جو انسان وہاں جا کر خود آباد ہو جائے اور مستقل وہیں کا ہو کر رہ جائے۔پھر اُس سے اُنہوں نے کہا کہ تربیت میں بھی فائدہ پہنچے گا۔تو بچوں کی طرف میں نے دیکھا وہ بڑی خوشی سے مسکرا مسکرا کر ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر ہاں کر رہے تھے۔تو یہ خاندان یعنی فہیم بھٹی صاحب کا خاندان خدا کے فضل۔پورے کا پورا اپنے آپ کو پیش کر چکا ہے۔اس کے بعد دوسرے دن ان کے دوسرے بھائی تشریف لے آئے کہ میری طرف سے بھی یہی خواہش ہے، وہ اپنے خاندان کو لے کر آئے کہ ہمارے بھائی نے جو کام کیا ہے ہم اُس سے پیچھے نہیں رہنا چاہتے اور تیسرے دن تیسرے بھائی کا خط آگیا کہ میں