خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 711
خطبات طاہر جلد ۱۱ 711 خطبه جمعه ۹ /اکتوبر ۱۹۹۲ء اعلان ہے اور باقی دنیا کی جماعتوں کو میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ سرب جو مہا جر آئے ہیں ان کے ساتھ محبت کا سلوک کریں، ان سے تعلقات قائم کریں، ان کی ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش کریں اور اُن کے ذریعہ اگر ان کے بچے مل سکتے ہوں تو ان کے بچوں کو پالا جائے۔مغرب میں بعض قوانین کی دقتیں ہیں اُن سے متعلق ہم نے غور کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اُن وقتوں کے باوجود احمدیوں کیلئے ممکن ہے کہ وہ سرب بچوں کو اپنا ئیں اور ان کیلئے ماں باپ سے زیادہ محبت کا سلوک کرنے کی کوشش کریں۔ان سے ماں باپ سے بڑھ کر محبت کا سلوک کرنے کی کوشش کریں۔وہ اللہ مظلوم ہیں اور اپنے بچوں سے محبت کرتے وقت تو آپ کے طبعی تقاضے ہیں اُس میں بھی نیکی ہوتی ہے کہ خدا کی خاطر محبت کی جائے۔مگر ایسے بچے جو محض خدا کی خاطر یتیم بنائے گئے ہوں یہ وقت ہے کہ ان سے غیر معمولی محبت اور پیار کا سلوک کیا جائے۔اور احمدی گھروں میں زیادہ سے زیادہ ان کو اپنایا جائے۔پس جن ممالک میں قانونی روک کوئی نہیں ہے وہاں تو احمدیوں کے لئے کوئی مشکل نہیں کہ اُن بچوں کو اپنا لیں۔جہاں قانونی روکیں ہیں وہاں ایک صورت ہو سکتی ہے کہ عارضی طور پر امانتاً وہ بچے لئے جائیں۔مستقل بچہ لینا Adopt کرنا جس کو کہتے ہیں یہ نہ تو اسلام میں ویسے Adoption جائز ہے۔یعنی ان معنوں میں Adoption کہ گویا وہ جائداد میں بھی شریک ہو جائے گا اور جو قوانین انسانی تعلقات کے ہیں وہ اُس بچہ پر بھی اطلاق پائیں گے اور اُس کے منہ بولے ماں باپ پر بھی اطلاق پائیں گے یہ Adoption ہے جس کی راہ میں بہت دقتیں ہیں۔اور احمدیوں کو ایسی Adoption میں دلچسپی بھی کوئی نہیں کیونکہ وہ خلاف اسلام ہے۔ہم امین بن کر بچوں کو اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں اور اُن کے نتیجے میں نہ ہمیں کوئی ملکی حقوق حاصل ہوں گے کسی قسم کے نہ اُن بچوں کو کوئی ایسے حقوق حاصل ہوں گے جو قرآن کریم کے جاری کردہ نظامِ وراثت پر اثر انداز ہوں۔اس پہلو سے ان حکومتوں کی طرف سے بھی ایک راستہ کھلا موجود ہے اور وہ امانتا وہ بچے سپرد کر دیتے ہیں بعض دفعہ تھوڑی دیر کیلئے بعض لمبے عرصے کیلئے۔چنانچہ پانچ ، دس سال، پندرہ سال بھی ان بچوں کی خدمت کی توفیق مل جائے تو ایک بہت بڑی خدا تعالیٰ کی طرف سے سعادت ہوگی۔تو یورپ کے ممالک میں ہر احمدی کو چاہئے یہ کوشش کرے اور ان مظلوموں سے تعلقات قائم کریں اور ان کی انسانی سطح پر ہر ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرے اور جوضرور تیں ان کی طاقت سے بڑھ کر