خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 712
خطبات طاہر جلدا 712 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء ہوں اور کسی اور طرف سے پوری نہ ہو رہی ہوں اُن سے متعلق جماعت کو متوجہ کریں۔انشاء اللہ تعالیٰ جماعت اس معاملہ میں اپنے مظلوم بھائیوں کی ہر طرح مدد کرنے کی کوشش کرے گی۔تو میں اُمید رکھتا ہوں کہ جماعت جس طرح کہ ہمیشہ ہر نیک تحریک پر ضرور لبیک کہتی ہے اس تحریک پر بھی انشاء اللہ ضرور لبیک کہے گی۔خدا کرے کہ مسلمان حکومتوں کو بھی لبیک کہنے کی توفیق ملے ورنہ یہ نہ ہو کہ آئندہ زمانہ ان پر طعن کرے کہ ناداں جھک گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا پہلے قیام کی باتیں کیا کرتے تھے جب سجدوں کا وقت تھا، قیام کا وقت آیا ہے تو سجدوں میں جا پڑے ہیں۔یہ بے محل اور بے ترتیب بے سلیقہ باتیں ہیں مومن کو زیب نہیں دیتیں۔اب وقت ہے اسلامی جہاد کا، اس جہاد میں تمام اسلامی ملکوں کو پوری طرح حصہ لینا چاہئے اور غیر اللہ کے خوف کو بالکل دل سے نکال دینا چاہئے۔دوسری بات میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ USSR کے سابقہ علاقوں اور ریاستوں میں جماعت احمدیہ کو میں نے نصیحت کی ہے اور کئی رنگ میں نصیحت کی ہے کہ وہ اپنے تعلقات بڑھائیں اس سے پہلے ایک تحریک کی تھی پچھلے خطبے میں کہ بعض صاحب علم دوستوں کی مختلف Professions میں مہارت رکھنے والے افراد کی بعض مسلمان یا غیر مسلم ریاستوں کو بھی ضرورت ہے اور ان کے بعض نمائندوں نے ہم سے رابطہ پیدا کیا ہے اور خواہش کی ہے کہ جماعت صاحب علم دوست جن کا میں ذکر کر چکا ہوں اپنے اپنے مضمون سے تعلق رکھنے والے اپنے نام پیش کریں۔ایک اور اعلان یہ کرنا ہے کہ بہت سے ایسے USSR کے ممالک ہیں جہاں کی یو نیورسٹیوں میں تعلیم کا معیار خدا کے فضل سے بہت اونچا ہے اور بہت کم خرچ پر وہاں طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اس لئے بجائے اس کے کہ مغربی یونیورسٹیوں کی طرف مشرق کے باشندے بھا گیں، یعنی امیر ملکوں کی جو Capitalist ممالک ہیں، اُن کی یو نیورسٹیوں کی طرف بھاگیں یہ وقت ہے کہ یہ مشرقی یورپ اور USSR کی ریاستوں میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کریں۔جماعت احمد یہ اس سلسلے میں ہر طرح تعاون کرے گی۔مرکزی طور پر ہم نے کافی معلومات اکٹھی کی ہیں۔میں سمجھتا ہوں افریقہ کے غریب طلباء کے لئے بہت اچھا موقع ہے اور پاکستان ، ہندوستان، بنگلہ دیش وغیرہ کے طلباء کے لئے بھی بہت اچھا موقع ہے۔ہمارے تعلقات خدا کے فضل