خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 707 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 707

خطبات طاہر جلد ۱۱ 707 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء ہے اور بے انتہا مظالم ہورہے ہیں اُن میں صرف اسلام وجہ ہے۔چنانچہ مغربی قو میں بھی اور ان کے تمام نشریاتی ادارے بھی بار بار مسلمان کا ذکر کرتے ہیں اور قومی ذکر نہیں کرتے۔چنانچہ بعض دفعہ بعض ناقدین نے ان کو متوجہ بھی کیا۔انہیں کہا تم کیوں بار بار مسلمان کہتے ہو یہ کیوں نہیں کہتے کہ بوسنیا کے خلاف سر بزنے حملہ کیا ہوا ہے۔تو جو لوگ جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہاں سربین اور بوسنین کی لڑائی نہیں بلکہ بوسنین کے اسلام کی وجہ سے بوسنین سے نفرت کی جارہی ہے اور جس رنگ کے مظالم وہاں توڑے جارہے ہیں وہ بلاشبہ Hitler کے دور کو بھی شرماتے ہیں۔بعض ایسے جرائم کا ارتکاب ہو رہا ہے، دنیا کے ظلم کی تاریخ میں ایسے ابواب کا اضافہ ہورہا ہے، جو اس سے پہلے نہیں دیکھے گئے تھے یا سنے گئے تھے۔پس بوسنیا کی صورتِ حال اس آیت کریمہ کے تابع ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے یعنی سورہ حج کی آیت جس میں اُذن لِلَّذِینَ کے ذریعہ مسلمانوں کو بعض مظلوموں کو ، بعض خاص حالات میں تلوار اُٹھانے کی اجازت دی اور اس کو خدا کی خاطر جنگ قرار دیا ہے اور یہ وعدہ فرمایا کہ اِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ تم کمزور ہو ، مظلوم ہو ، گھروں سے بے گھر کئے گئے ہو، لیکن ہم تم سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر تم خدا کی خاطر اس اجازت کے پیش نظر اپنے دفاع میں تلوار اُٹھاؤ گے تو اللہ تمہاری نصرت پر قادر ہے۔وہ جب چاہے گا تمہیں فتح عطا فرمائے گا۔تعجب کی بات ہے کہ جماعت احمدیہ پر الزام لگانے والے بے محل اور بے موقع جہاد کی باتیں کرتے ہوئے تھکتے نہیں مگر آج جب جہاد کا موقعہ ہے تو تمام اسلامی حکومتیں اس بارے میں خاموش ہیں اور کسی میں یہ طاقت نہیں ہے کہ اُٹھ کھڑی ہو اور سر عام دنیا کوللکار کر کہے کہ یہ موقع ایسا ہے جہاں اسلام نے جہاد کی اجازت دی ہے اس لئے ہم اس حق کو استعمال کریں گے۔تمام کے تمام ایسی بڑی طاقتوں سے مغلوب ہیں اور ان کے محکوم ہیں، ان کے ساتھ غلامانہ تعلقات رکھتے ہیں کہ جو ان کو خدا سے بھی زیادہ طاقتور دکھائی دیتی ہیں اور جہاں اللہ تعالیٰ کے احکامات کے تقاضے ایک طرف ہوں اور ان حکومتوں کی رضا کے تقاضے دوسری طرف ہوں وہاں خدا کی بالا دستی کو ایک طرف چھوڑ کر جس کے قائل ہیں اور بالآخر ہر ایک کو قائل ہونا ہی پڑے گا، ان کی بالا دستی کے تابع ہو جاتے ہیں ، یہ انہیں نزدیک دکھائی دیتی ہے۔جیسے پنجابی میں کہتے ہیں اللہ نزدیک ہے، نہایت بیہودہ قسم کا محاورہ