خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 706 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 706

خطبات طاہر جلد ۱۱ 706 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء جماعت احمدیہ پر بہت سے مسلمان علماء اور اب حکومتیں بھی ان میں شریک ہو چکی ہیں مدت سے یہ الزام لگا رہے ہیں کہ ہم جہاد کے قائل نہیں ہیں حالانکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بالکل واضح موقف ہمیشہ یہ رہا اور جماعت احمدیہ کا ہمیشہ سے یہی موقف چلا آ رہا ہے کہ قرآن کریم نے جس جہاد کا ذکر فرمایا ہے وہ اپنی تمام تر صورتوں میں ، تمام شرائط کے ساتھ ہمیشہ جاری رہنے والا ایک سلسلہ ہے، جہاد بالسیف اُس کی ایک قسم ہے اور جب بھی جہاد بالسیف کی شرائط پوری ہوں، جہاد بالسیف بھی اُسی طرح فرض ہوگا جیسے دوسرا جہاد ہے لیکن شرائط کے ساتھ اور قرآن کریم کی بیان کردہ حدود کے اندر، ان کو پھلانگ کر نہیں۔اس ضمن میں بوسنیا کے متعلق مجھے کامل یقین ہے کہ اگر اس دور میں ہم نے اسلامی جہاد کا کوئی موقع دیکھا ہے جہاں اسلامی جہاد کا تصور واقعی منطبق ہوتا ہے تو وہ بوسنیا کی صورت حال ہے۔اس سے پہلے افغانستان کے متعلق بھی بہت جہاد کی باتیں ہوئی ہیں لیکن ایک فرق ہے بوسنیا اور افغانستان کے حالات میں۔افغانستان میں اس وجہ سے افغان باشندوں کو اپنے ملک سے در بدر نہیں کیا گیا کہ وہ مسلمان ہیں کیونکہ جو پیچھے رہ گئے تھے وہ بھی مسلمان ہی تھے اور محض اسلام کی بناء پر ان کو ملک سے باہر نہیں نکالا گیا ، ہاں کیونکہ وہ طاقت جس نے افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل دیا اور اپنے نظام کو افغانستان پر ٹھونسنے کی کوشش کی وہ طاقت ایک بے دین طاقت تھی۔اس لئے اس کے خلاف احتجاج میں اور نفرت کے اظہار کے طور پر کہ ہم کسی کو زبردستی اپنا نظام نہیں بدلنے دیں گے وہ لوگ اپنے ملک کو چھوڑ کر گھر سے بے گھر ہوئے۔یہ جہاد کی ایک قسم قرار دی جاسکتی ہے اس میں ہرگز کوئی شک نہیں۔لیکن بعینہ وہ جہاد نہیں جس کا قرآن کریم میں کھلم کھلا ذکر ہے۔جیسا کہ سورۃ حج میں جب جہاد کی اجازت دی گئی تو فرمایا گیا ذنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا الله (المج:۴۰ ۴۱) کہ اجازت دی جاتی ہے ان لوگوں کو جن کے خلاف تلوار اُٹھائی جارہی ہے اور ظلم کے طور پر اُٹھائی جارہی ہے کوئی حق نہیں ہے تلوار اٹھانے والوں کو۔وہ لوگ جو اپنے گھروں سے نکالے گئے محض اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے یعنی دین کی خاطر ، خدا کی خاطر محض یہ وجہ دشمنی کی تھی ورنہ اور کوئی دنیاوی دشمنی نہیں تھی۔بوسنیا میں جو مسلمانوں کا قتل عام ہورہا