خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 705
خطبات طاہر جلد ۱۱ 705 خطبه جمعه ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء احمدی اسلامی جہاد سے کبھی پیچھے نہیں رہیں گے۔آج بوسنیا میں جہاد بالسیف جائز ہے۔امانت و خیانت کا جاری مضمون خطبه جمعه فرموده ۹ را کتوبر ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔خطبات میں مضامین کے جو سلسلے چلتے ہیں ان میں بعض دفعہ یہ وقت پیش آتی ہے کہ بعض واقعات ایسے گزرتے ہیں جن پر فوری تبصرہ ضروری ہوتا ہے اور جن کے متعلق جماعت کو بعض دفعہ نصیحت کرنی پڑتی ہے، بعض دفعہ تحریک کرنی پڑتی ہے، بعض دفعہ اُن کی راہنمائی کرنی پڑتی ہے۔تو اسی لئے میں خطبات کے سلسلے کے دوران ہی اب ابتداء میں چند اور باتیں کرتا ہوں تا کہ وقت کے تقاضے بھی پورے ہو سکیں اور سلسلہ بھی جاری رہے۔اس ضمن میں چند دن پہلے میں نے سوچا کہ بوسنیا سے متعلق میں جماعت احمدیہ کو صورت حال سے مختصراً آگاہ کرتے ہوئے ایک اہم اعلان کروں اور یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف ہے کہ مجھے اطلاع ملی کہ بوسنین مسلمانوں کا ایک مہاجر گروہ ملاقات کا خواہشمند ہے اور انہوں نے جمعہ ہی کا وقت دیا ہے اور جمعہ وہ ہمارے ساتھ پڑھیں گے چنانچہ آج جمعہ میں وہ ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے اس جمعہ میں شریک ہو رہے ہیں۔اس سے مجھے یہ یقین ہوا کہ یہ تصرف الہی ہی تھا اور ان دونوں باتوں کا آپس کا انطباق کوئی حادثہ نہیں کوئی اتفاق نہیں بلکہ واقعہ یہ مضمون بیان کرنا ضروری تھا۔