خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 703
703 خطبه جمعه ۲ را کتوبر ۱۹۹۲ء خطبات طاہر جلد ۱۱ نظر ہے خدا کی، اس کی بعض خوبیوں پر بھی تو نظر ہوگی اور وہ جانتا ہے کہ کس حد تک بیماری پھیلی کس حد تک صحت کے امکانات ہیں۔تو اللہ پر اس معاملے کو چھوڑو بہت غفور رحیم ہے جس سے چاہے گا حسن سلوک فرمائے گا۔وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ اَنْفُسَهُمْ (النساء: ۱۰۸) پہلے خصومت کا ذکر تھا اب مجادلہ کا ذکر فرمایا ہے۔فرمایا ہے کہ ان کیلئے کسی قسم کی کوشش اور جہاد نہ کرو يَخْتَانُونَ ان لوگوں کیلئے جو اپنے نفس کی بددیانتی کرتے ہیں، اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں۔يَخْتَانُونَ اَنْفُسَهُمْ - اَنْفُسَهُمْ کے معنی دو ہیں اول اَنْفُسَهُم سے مراد قوم اور سوسائٹی ہے۔ایسے لوگ جو اپنی قوم اور اپنی سوسائٹی سے بددیانتی کرتے ہیں اور ان کے عہدوں کو نبھاتے نہیں ہیں ان سے رعایت نہیں کرتے اور ان کی امانتوں کا حق ادا نہیں کرتے ان لوگوں کے متعلق فرمایا ہے کہ تمہیں ان کی طرف سے کوئی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔دعا کیذریعے کسی اور کے ذریعے سے ان کے حق میں کوئی لڑائی نہ کرو۔اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَانًا اَشِيمًا اور یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ خائن گناہ گار سے محبت نہیں کرتا۔اَشِیما کا خالی استعمال نہیں فرمایا یہاں۔فرمایا خَوَانًا أَثِيمًا بہت زیادہ خائن، ایسا خائن جو حد سے بڑھ چکا ہو اور پھر گناہ گار بھی ساتھ ہر قسم کا ہو وہ تو ہونا ہی ہونا پھر اس نے۔فرمایا اللہ ان سے محبت نہیں کرتا۔یہ جو محاورہ ہے اللہ محبت نہیں کرتا۔میں نے پہلے بھی سمجھایا تھا مراد یہ نہیں کہ محبت نہیں کرتا چلو نفرت بھی نہیں کرتا ہو گا۔محبت نہ کرنے کا عربی کا محاورہ ہے سخت نفرت کرتا ہے کسی قیمت پر بھی ان کو برداشت نہیں کرتا۔اللہ کا محبت نہ کرنا ایک بڑا گہرا بیان ہے۔اس کو آپ خوب غور سے سمجھنا چاہئے۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر فرمایا کہ اگر خدا اپنے بندوں کی کمزوریوں پر نگاہ رکھتا تو کسی سے اس کا تعلق نہ رہتا لیکن اپنے بندوں کی کسی نہ کسی خوبی پر نظر رکھ کر وہ ان سے تعلق رکھتا ہے۔ہیں جس شخص کے متعلق یہ آجائے کہ خدا اس سے محبت نہیں رکھتا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اندر کوئی خوبی نہیں پاتا۔کوئی تعلق کیلئے مشترکہ زمین نظر نہیں آتی جس پر وہ تعلق قائم ہو سکے۔پس حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ نے ایسی گہری عرفان کی باتیں ہمیں سمجھائیں ہیں کہ ایک مضمون دوسرے مضمون کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔کہ جب قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا میں