خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 702
خطبات طاہر جلدا 702 خطبه جمعه ۲ را کتوبر ۱۹۹۲ء سفارش کرنا اس کو بھی خصومت کہتے ہیں۔تو آنحضرت ﷺ کوبھی یہ نصیحت فرمائی گئی کہ تم خائنین کیلئے ہمارے پاس کوئی دعا اور سفارش نہ کرنا۔وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء : ۱۰۷) اللہ سے بخشش مانگو اور خدا بہت غفور رحیم ہے بہت مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔اس آیت نے وہ سارے وہم دور کر دئے کہ اگر انسان خائنوں سے مغفرت نہیں کرے گا تو خدا کی مغفرت سے محروم رہ جائے گا۔جو لوگوں سے رحم کا سلوک نہیں کرتا ، خدا بھی اس سے رحم کا سلوک نہیں کرتا۔یہ وہی واہمہ ہے جس نے بعض لوگوں نے خائنوں کی سفارش کرنے پر مجبور کیا۔تو قرآن کریم کا اعجاز دیکھیں کہ جہاں ایک دفعہ خائنوں سے نرمی نہ کرنے کا حکم دیا ہے، یہاں تک کہ ان کی سفارش سے بھی روک دیا، ان کے لئے دعا سے روک دیا۔وہاں اس بات کا یقین دلایا کہ خدا کی خاطر تم ایسا کرو گے، خدا کی مغفرت سے محروم نہیں رہو گے۔اللہ سے مغفرت طلب کرو، بہت ہی غفور رحیم ہے۔مطلب یہ ہے کہ اگر خدا نے کسی خائن میں کوئی ایسی نیکی دیکھی کہ اس کی مغفرت کا فیصلہ کرے یہ بھی ایک مطلب ہے تو وہ چاہے تو کر سکتا ہے لیکن تمہیں بیچ میں دخل دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔دو پیغام اکٹھے مل گئے ایک طرف خائن کے لئے دعانہ کرنے والے کو یہ پیغام ہے کہ اس کے نتیجے میں خدا تم سے اسی طرح مغفرت کا سلوک کرتا رہے گا جیسے پہلے کرتا تھا کہ تم خدا کی خاطر رکے ہو اور دوسری طرف یہ بھی اعلان ہے کہ خدا کو اپنی بخشش اور مغفرت کے سلوک کیلئے تمہاری سفارش ، تمہاری دعاؤں اور التجاؤں کی ضرورت نہیں ہے۔خائن کا معاملہ مخفی ہے اور یہ وہ مضمون ہے جو پہلے حدیث میں بیان ہوچکا ہے۔ایک خیانت کی بیماری مخفی بیماری ہے اور اس کی کنہ تک انسان پہنچ نہیں سکتا۔کچھ ظاہری خیانتیں اس کو دکھائی دیتی ہیں یہ نہیں جانتا کہ اس کے اندر کیا کیا خیانتیں تھی اور جڑیں کہاں کہاں پہنچ ہوئی ہیں اور اس مضمون سے واقف نہیں کہ جو تھوڑی سی خیانتیں ظاہر پر اس کو دکھائی دی ہیں۔اللہ فرما رہا ہے کہ یہی شخص خدا اور رسول کا بھی خائن ہے۔تو کن معنوں میں ہے۔بیماری اندر کہاں کہاں تک پھیلی ہے ہمیں کچھ علم نہیں مگر اللہ بہتر جانتا ہے اور ساتھ قرآن نے یہ بھی تسلی دی کہ اگر کسی کو معاف فرمانا چاہے اللہ تو بہت غفور رحیم ہے تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسا خائن جس کی بعض کمزوریوں پر کوئی