خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 701
خطبات طاہر جلدا 701 خطبه جمعه ۲ اکتوبر ۱۹۹۲ء بھی خائن ہو کیونکہ ناممکن ہے کہ انسان بندے کا خائن ہو اور خدا اور رسول کا خائن نہ ہو۔پھر قرآن کریم فرماتا ہے۔اِنَّا اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَيكَ اللهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَاسِنِينَ خَصِيمًا (النساء:۱۰۶) کہ ہم نے تیری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے تا کہ تم لوگوں کے درمیان فیصلے کرے اور لوگوں کو حکمت کی باتیں بتا لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ میں حق کے اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنا بھی داخل ہے اور حکم میں حکمت کے معنی بھی پائے جاتے ہیں۔بِمَا أربك الله اس روشنی کے ساتھ یہ فیصلے کرے اور حکمت کی باتیں بیان فرمائے کہ جو خدا نے تجھے دی ہے۔اس نور سے یہ فیصلے کرے جو خدا نے تجھے عطا فرمایا ہے۔بِمَا أَرَيكَ اللهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَابِنِيْنَ خَصِيصًا سب کیلئے دعائیں بے شک کرمگر خائنین کے لئے ہمارے حضور دعا نہ کرنا۔خصیم کا لفظ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی ان معنوں میں استعمال ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے انبیاء کو منع فرمایا ہے اور اسی طرح جبرائیل امین کو بھی کہ خائن کی حمایت میں کچھ نہ کہنا اور یہ لفظ نصیحت صرف خدا ہی سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ دنیا سے بھی تعلق رکھتی ہے۔جہاں بھی ایک خائن کا معاملہ در پیش ہو اس کی حمایت میں کچھ نہیں کہنا چاہئے۔بعض دفعہ لوگ بعض ایسے لوگوں کی سفارش کرتے ہیں جن سے غلطیاں ہوئیں، فلاں غلطی ہوگئی انہیں معاف کر دیا جائے اور خائنین کی بھی کر دیتے ہیں۔مثلاً بعض ایسے واقعات ہیں بہت کم ہوتے ہیں اللہ کے فضل سے مگر شاذ کے طور پر مگر ہوتے ہیں کہ جماعتی احوال میں کسی نے خورد برد کی ہے۔لوگ تو چٹھیاں لکھتے ہیں کہ اللہ بہت رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (التوبہ: ۱۲۸) ہے رسول اکرم یہ بے حد مہربان تھے۔قرآن مجید نے ان کو رَءُوفٌ رَّحِیم قرار دیا۔اللہ تعالی سارے گناہ بخش دیتا ہے۔تو آپ جب خدا کی رحمت ، مغفرت کے گن گاتے ہیں، محمد رسول اللہ اللہ کی رحمت ، مغفرت کے گن گاتے ہیں تو کیوں ایسے لوگوں سے صرف نظر نہیں کرتے ان کو معاف نہیں فرماتے۔تو ان کو پتا نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا ہے کہ خائن سے نہ رعایت کرنی ہے نہ اس کی وکالت کرنی ہے۔تو جماعت کو اس مضمون کو سمجھنا چاہئے۔دنیا کے معاملات میں بھی خائن کی کوئی حمایت نہیں کرنی چاہئے اور انبیاء کو جب فرمایا جاتا ہے وَلَا تَكُنْ لِلْخَابِنِيْنَ خَصِيصًا تو لفظ خصم جو ہے یہ صرف برائی کے معنوں میں نہیں ہوتا۔جھگڑا بلکہ شدت سے کسی کی وکالت کرنا دل ڈال کر ، جان ڈال کر کسی کی وکالت کرنا اور