خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 698 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 698

خطبات طاہر جلد ۱۱ 698 خطبه جمعه ۲ را کتوبر ۱۹۹۲ء ہے نفس لوامہ موجودہی نہیں ہے۔ایسے لوگوں کو وہم ہے کہ وہ مومن ہیں۔اور یہ حدیث واضح طور پر کھلم کھلا اعلان کر رہی ہے کہ جس شخص میں یہ دو چیزیں اکٹھی ہو جائیں جھوٹ اور خیانت وہ مومن نہیں کہلا سکتا۔ہزار دوسری بدیاں ہوں تو پھر وہ مومن کہلائے گالیکن جھوٹ اور خیانت ہوتو ایمان کی جڑیں اُکھڑ جاتی ہیں، کچھ بھی ایمان کا باقی نہیں رہتا۔جھوٹ سے متعلق کچھ میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔خیانت کے متعلق حضرت محمد رسول الله تعالی کی ایک اور حدیث پیش کرتا ہوں۔آپ نے فرمایا ! اے میرے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ، بھوک ننگ سے جس کے ساتھ ، جس کا اوڑھنا بچھونا بہت ہی برا ہے اور میں پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کیونکہ یہ بطانت پیدا کرتی ہے اور بہت ہی بری بطانت ہے ( ترندی کتاب الاستعاذہ حدیث نمبر :۵۳۷۳) یعنی اندرونی بیماری۔اب یہ دو الگ الگ باتیں ہیں۔انسان تعجب میں مبتلا ہوتا ہے بظاہر کہ ان دونوں صلى الله میں کیا جوڑ ہے مگر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی باتوں پر غور کرنے کیلئے ٹھہر نا پڑتا ہے مضمون میں ڈوبنا پڑتا ہے اور گہری تلاش کر کے جس طرح غوطہ خور سمندر کی تہہ سے موتی نکالتا ہے اس طرح آنحضرت ﷺ کے کلام میں ڈوب کر آپ کے مطالب کو حاصل کرنا پڑتا ہے۔ظاہری نصیحت اپنی جگہ اثر دکھا دیتی ہے جس طرح سمندر کی سطح کا بھی ایک اثر ہے لیکن اس کی گہرائی میں اور بھی چیزیں ہیں جو بہت ہی مفید ہیں۔تو اس حدیث کو پڑھ کر ایک مومن کے دل پر بڑا اچھا اثر پڑے گا کہ یہ دو باتیں ہیں ان سے پناہ مانگنی چاہئے لیکن ذرا اس حقیقت کو سمجھیں گے ان دونوں کا تعلق سمجھیں گے تو ایک طرف حضرت اقدس محمد مصطفی اے کے مرتبے کا عرفان بڑھے گا دوسری طرف ان چیزوں سے نجات پانے کیلئے پہلے سے بڑھ کر ارادہ قوی ہوگا اور انسان دعا کے ذریعے ان سے نجات پانے کی کوشش کرے گا۔بھوک کو ظاہری طور پر فرمایا کہ بہت ہی بُرا اوڑھنا بچھونا ہے۔قرآن کریم میں بھی ایک جگہ لِبَاسَ الْجُوعِ (النحل :۱۱۳) فرمایا ہے۔اس حدیث کی بنیاد اسی آیت کریمہ میں ہے کہ خدا تعالیٰ کسی قوم کو جب بھوک کا لباس پہنا دیتا ہے۔تو بہت ہی بری حالت ہوتی ہے۔بھوک کا لباس کیوں فرمایا گیا ؟ بات یہ ہے کہ بھوک ایک ایسی بلا ہے کہ جس پر انسان ہر دوسری ضرورت کو قربان کرتا چلا جاتا ہے اور بھو کے لوگوں کے گھروں میں پہلے زیور بکتے ہیں اور پھر برتن تک بکنے لگ جاتے ہیں پھر