خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 694
خطبات طاہر جلد ۱۱ 694 خطبه جمعه ۲ را کتوبر ۱۹۹۲ء تیزی سے جماعت احمدیہ کے اس فلسفے کو اور جماعت احمدیہ کے کردار کو ان لوگوں نے سمجھا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ بالکل خدا تعالیٰ سے لا بلد رہتے ہوئے ایک لمبے عرصے تک خدا سے دور رہنے کے باوجود دل کی تختیاں صاف ہیں ، سادہ ہیں اور ذہن اس حد تک روشن ہیں کہ سچ کو جھوٹ سے الگ کر کے دیکھنے میں ان کو کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی ، فور پتا لگ جاتا ہے یہ بیج ہے یا جھوٹ ہے۔پس مولوی چاہیں جتنا مرضی چاہیں شور مچائیں ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ ہمارے بچے سجن ، ہمارے ساتھی کون ہیں۔کس نے ہم سے وفا کرنی ہے، کس نے ہماری مدد کرنی ہے اور جگہ جگہ سے مطالبے شروع ہو گئے ہیں کہ جماعت احمد یہ آئے اور اس میدان میں بھی ہماری مدد کرے اور اس میدان میں بھی مدد کرے۔اب یہ جو نظام ہے تصویری زبان میں خطبات کا دنیا میں پھیلنا یہ اس سلسلے میں بے حد مؤید اور مفید ہے اس سے پہلے ہم زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے تھے کہ جماعتوں کو چٹھی لکھتے کہ ان ان آدمیوں کی ضرورت ہے ، ان کوائف کی ضرورت ہے۔اس اطلاع کے باوجود بہت سی جماعتیں ہیں جن میں ستی ہوتی ہے۔اگر امراء وقت پر اس نوٹس کو آگے چلانے کی بھی کوشش کریں تو درمیان میں منتظم کمزور ہو جاتے ہیں۔ٹھیکے کے پانی کا سا حال ہے کھالا کبھی یہاں ٹوٹ گیا کبھی وہاں ٹوٹ گیا کبھی کھیت میں پہنچ کر پانی باہر نکلنا شروع ہو جاتا ہے۔تو وسیع نظام جو ہیں ان میں اس قسم کی کمزوریاں ہوتی رہتی ہیں اور جن لوگوں تک پیغام پہنچنا چاہئے براہ راست ان تک بہت کم پیغام پہنچتا ہے لیکن اب جب میں یہ اعلان کروں گا تو مشرق اور مغرب میں، افریقہ میں بھی ہر جگہ احمدی براہ راست سن رہے ہوں گے اور جن کی ضرورت ہے وہ سن رہے ہوں گے کہ ہماری ضرورت ہے اور ان کے دل اسی وقت لبیک کہیں گے۔تو بجائے اس کے کہ مہینوں یاددہانیاں کروائی جائیں،انتظار کئے جائیں ایک ہی خطبے میں، ایک ہی ثانیہ میں دنیا کے تین چوتھائی علاقوں میں خدا کے فضل سے یہ ضرورت کی اطلاع پہنچ جائے گی اور اس کے نتیجے میں جیسا کہ میں جانتا ہوں جماعت ہمیشہ نیکی کے کاموں پر لبیک کہتی ہے اس کام پر بھی وہ لبیک کہیں گے۔جو مطالبے شروع ہوئے ہیں ان میں ایک ہے اکنامکس کے ماہرین کیونکہ اس وقت بہت سخت اقتصادی بحران کا شکار ہیں اور باوجود اس کے کہ مذہبی قو میں ان کو اقتصادی ماہرین مہیا کر رہی ہیں لیکن ان کو اعتماد نہیں ہے۔وہ جانتے ہیں کہ یہاں سے دھوکا ہی ملے گا اور جو مشورے ہیں ان میں ہم ایسی