خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 691 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 691

خطبات طاہر جلدا 691 خطبه جمعه ۲ را کتوبر ۱۹۹۲ء اصلاح کا موجب بننے والا سلسلہ اور وہ بھی جن سے جان نکل رہی ہے ان میں دوبارہ زندگی ڈالنے کا موجب بنے گا۔انفرادی اصلاح میں میں امید رکھتا ہوں کہ یہ خطبات کا سلسلہ بہت مفید ثابت ہوگا اور خدا کے فضل سے ہو بھی رہا ہے ، بعض ایسے احمدی تھے جو دور جاچکے تھے یا دور ہٹ رہے تھے۔پہلے ان سے میرا تعلق بھی رہا ہے۔بعض ان میں ایسے تھے جن سے میرا تعلق نہیں رہا لیکن پھر وہ تعلق بھی رفتہ رفتہ اسی طرح مٹتا رہا۔اس خطبات کے سلسلے کے بعد وہ دوبارہ ملے ہیں تو ان کی کایا پلٹ چکی تھی اور ایک نے مجھے روتے ہوئے گلے لگ کے کہا کہ اب مجھے ہوش آئی ہے ، اب پتالگا کہ میں کہاں جار ہا تھا اور کہاں جا چکا تھا۔میں خدا کے فضل سے پورے زور سے پلٹ آیا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی کی آخری سانس تک انشاء اللہ نیکیوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا رہوں گا۔یہ جو کیفیتیں ہیں یہ بہت ہی امید افزا ہیں اور وہ لوگ جو چند برے لوگوں کو دیکھ کر مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں ان کو میں سمجھاتا ہوں کہ یہ طریق زندہ قوموں کے نہیں ہیں۔بُروں کو دیکھ کر مایوس ہونا ہمارا کام نہیں ، بُروں کو دیکھ کر ان پر رحم کرنا ، ان کو ساتھ لے کر چلنا اور امید بہار رکھنا یہ مومن کا شیوہ ہے۔یہ جو سلسلہ خطبات کا تصویری شکل میں دنیا میں دکھایا جارہا ہے یہ انشاء اللہ تعالیٰ آگے بڑھتا چلا جائے گا۔اس ضمن میں میں جماعت جرمنی کا خصوصیت سے ذکر کرنا چاہتا ہوں اگر چہ مالی بوجھ میں یورپ کے بہت سے ممالک شامل ہیں اور پاکستان کے بھی کچھ احباب نے یا جماعتوں نے شرکت کی ہے، دیگر ممالک سے بھی اس مد میں وعدہ جات بھی ، رقمیں بھی موصول ہوئی ہیں مگر سب سے زیادہ نمایاں خدمت جرمنی کی جماعت کو کرنے کی توفیق ملی ہے اور جہاں تک یورپ کے ٹراسمیشن کا تعلق ہے ان سب کے متعلق جماعت جرمنی نے اپنی مجلس شوریٰ میں Resolution پاس کر کے یہ یقین دلایا کہ جتنا بھی خرچ ہے تمام تر جماعت جرمنی ادا کرے گی۔تو یورپ کے چندے سے جو بیچ گیا اس کو ہم نے دنیا میں ٹیلی ویژن دکھانے کیلئے استعمال کیا اور چونکہ مشرقی جماعتوں میں ابھی اتنی طاقت نہیں تھی کہ اتنا بڑا بوجھ اٹھا سکتیں تو اس لحاظ سے جماعت جرمنی کا تمام دنیا کی جماعتوں پر ایک احسان ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور دیگر حصے لینے والوں کو بھی جزائے خیر دے۔اسی طرح جماعت کو میں سعید جسوال صاحب، ان کے بھائیوں اور ان کے بہنوئیوں اور ان کے بھانجوں بھتیجوں کو بھی دعا میں یادر کھنے کی تلقین کرتا ہوں کیونکہ اس خاندان نے اس معاملے میں بڑی