خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 686
خطبات طاہر جلدا 686 خطبہ جمعہ ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء سی نگرانی باہر سے ممکن ہی نہیں ہے کچھ حد تک کسی حد تک ہوسکتی ہے، عمومی طور پر اس طرح ہو جاتی ہے مثلاً میں نے جب دورہ کیا تو مختلف مجالس کے لوگوں کو آتے دیکھا یہ انداز لگایا کہ ان پر کام ہوئے تھے کہ نہیں ہوئے تھے۔عمومی نگرانی تو ہو جاتی ہے لیکن انفرادی کہ کون کر رہا ہے اور کون نہیں کر رہا ؟ یہ حقیقی نگرانی ہے جو انسان خود اپنی ذات میں ہی کر سکتا ہے اور اس کے بغیر یہ کام ہونا نہیں ہے۔آپ میں سے ہر شخص اپنا نگران ہے سب سے پہلے اور اگر اپنا نگران نہیں ہے تو بیرونی نگرانیاں آپ کو کچھ بھی فائدہ نہیں دیں گی۔بیرونی نگرانیاں اُن لوگوں کو فائدہ دیتی ہیں جن کے اندر ایک نگران پیدا ہو چکا ہو۔بیرونی نگران اُس نگر ان سے باتیں کرتا ہے جو اُس کی آواز کوسنتا ہے۔اُس کی نصیحتوں پر کان دھرتا ہے، ان کے مزاج کی شناسائی ہے ایک دوسرے کے ساتھ لیکن ایسا شخص جس کے اندر نگران نہیں ہے بیرونی نگران کی باتیں ایسی ہیں جیسے اردو دان کے سامنے فارسی بولنا یا پشتو دان کے سامنے ہالینڈین زبان میں بات کر رہے ہوں تو پیغام نہیں پہنچے گا تو پتا نہیں چلے گا کہ ہمیں سنے والا ہی کوئی نہیں ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہر شخص کے اندر ایک نگران اُٹھے جو زندہ ہو جائے، وہ باشعور بن جائے، اُس کو ایک فکر لگ جائے، ایسی فکر لگ جائے کہ دوسروں کے چہروں سے اس کا غم ظاہر ہونے لگے۔لوگ پہچانے لگیں اور پتا لگ جائے کہ اس شخص کو لو لگ گئی ہے۔ایسے شخص کی نگرانی کتنی آسان ہو جاتی ہے جو نصیحت اُس کو کی جائے اُس کے اندر کے آدمی کے کان میں پڑ رہی ہو اور بیرونی کان سے ٹکرا کر واپس فضا میں مرتعش نہیں ہوتی۔اندر کا پیغام سننے والا جا گا ہوا ہو تو ہر بات سنتا ہے، پلے باندھتا ہے، اندر ایک نوٹ بک لگی ہوئی ہے جس کے اندر وہ لکھتا چلا جاتا ہے اور کچھ فائدے اٹھاتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اُس کے اندر نئی نئی پاک تبدیلیاں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔پس اس رنگ کے داعی الی اللہ ہمیں چاہئیں جو اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کرلیں، فیصلہ کر لیں کہ ہم نے ضرور کچھ نہ کچھ کرنا ہے اس کے بغیر یہ زندگی بے معنی اور لغو اور بے حقیقت ہے۔لگن ہو تو تلاش ہوتی ہے اُس کے بغیر نہیں۔مجلس عاملہ کے سامنے میں نے یہ مثال رکھی تھی اور آپ کو بھی اس میں شامل کرنا چاہتا ہوں کہ آتی دفعہ سوئٹزر لینڈ میں ہمیں مقامی دوستوں نے پہاڑوں کے نیچے دبی گہری غاریں دکھا ئیں جن پر پانی کے برستے ہوئے قطروں نے کئی قسم کی نقش نگاری کی ہوئی تھی۔بڑے بڑے خوبصورت نقوش پیدا ہوئے تھے ، بڑے بڑے خوبصورت