خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 64

خطبات طاہر جلد ۱۱ 64 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء اعلیٰ روایات کے ساتھ چل رہے ہیں۔باقی صوبوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اسی طرح مدارس قائم کریں اور جہاں جہاں ممکن ہو کا لجز قائم کریں۔ٹیکنیکل کالجز کی وہاں بڑی ضرورت ہے اور قادیان میں بھی انشاء اللہ خیال ہے کہ اعلیٰ پائے کا ٹیکنیکل کالج بھی قائم کیا جائے گا۔تو سارے ہندوستان کی ضرورتوں کو پیش نظر رکھا جائے تو ایک کروڑ سالانہ کی رقم بھی کوئی چیز نہیں ہے لیکن اگر وقف جدید کے ذریعہ ایک سال کے اندر اندر ایک کروڑ کی رقم بھی مہیا ہو جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ شروع کرنے کے لحاظ سے خدا کے فضل سے کچھ نہ کچھ سرمایہ میسر آ جائے گا اور باقی اللہ تعالیٰ اور رستے عطا کرتارہتا ہے۔جماعت احمدیہ کی عالمی قربانیوں کا جو مجموعہ ہے اس میں سے جہاں مرکزی منصوبوں پر خرچ ہورہے ہیں مختلف ممالک پر خرچ ہورہے ہیں ایک حصہ اس میں سے بھی قادیان اور ہندوستان کی احمدی جماعتوں کے لئے مزید مخصوص کیا جا سکتا ہے تو آپ دعاؤں میں یاد رکھیں اور مالی قربانیوں کی جہاں تک توفیق ملے اسے بڑھانے کی کوشش کریں۔وقف جدید کی مالی قربانی پر نظر ثانی کریں۔بہت سے احمدی ہیں جو غربت اور تنگی کی حالت میں بھی ہر چندے میں شامل ہیں۔وہ تقریباً اپنی استطاعت کی حد کو پہنچے ہوئے ہیں لیکن میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا کی خاطر وہ جو قربانیاں پیش کرتے ہیں یا کریں گے اللہ تعالیٰ ان کے اموال میں برکت دے گا اور ان کی حدود وسیع تر کرتا چلا جائے گا۔وہ آیت جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی اس سے پہلے اس مضمون کی آیات ہیں جو میں اب آپ کے سامنے رکھ کر اس خطبہ کو ختم کروں گا جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے خدا کی خاطر خود محصور ہو گئے اور جن کے رزق کی راہیں تنگ ہوگئیں یا بند ہوگئیں جو لوگ قربانی کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو دین اور دنیا دونوں جگہ جزاء دینے والا ہے اور ان کے اموال کو رکھتا نہیں بلکہ ان میں بہت برکت دیتا ہے۔پس وہ برکت جو درویشوں کے ذریعے دوسروں کو پہنچتی ہے اس مضمون کو قرآن کریم نے یہاں ایک خاص رنگ میں کھول کر بیان فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی یہی ہے کی اس نصیحت کا اس آیت سے ہی تعلق ہے جس کا میں نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ تمہیں کیا پتہ کہ کن لوگوں کی وجہ سے تمہارے اموال میں برکت پڑ رہی ہے۔پس جو لوگ ان غریبوں پر خرچ کرتے ہیں جو خدا کی خاطر محصور ہوئے خدا کا واضح وعدہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہیں بہت برکت دے گا۔فصاحت و بلاغت