خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 63
خطبات طاہر جلد ۱۱ 83 63 خطبه جمعه ۲۴ /جنوری ۱۹۹۲ء کہ واقعہ ان کی محصور کی سی کیفیت ہے۔وہ عام روز مرہ کے اپنی زندگی کے حقوق سے کلیۂ محروم ہیں۔مسلمان ان سے کنی کتراتے ہیں۔ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات نہیں رکھتے کیونکہ ان کو نفرتوں کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ہند و ویسے ہی دور ہٹتے چلے جار ہے اور دن بدن ہند و قوم پرستی یا تشدد پرستی کی جو تحریکات ہیں وہ زیادہ قوی ہوتی جارہی ہیں اور یہ دراصل پاکستان اور بعض دوسرے مسلمان ممالک کی جہالت کا طبعی نتیجہ ہے۔سورنگ میں ان کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے اسے قومیائی حدود میں جکڑو نہیں اور غیروں کے مقابل پر ایسے ذرائع اختیار نہ کرو کہ وہ سمجھیں کہ تم اپنے مذہب کو زبر دستی ان پر ٹھونستے اور ان کو ان کے حقوق سے محروم کرتے ہو۔اگر ایسا کرو گے تو اس کا رد عمل پیدا ہو گا۔اور اگر اس کے بعد ہند و منوسمرتی کی تعلیم کی طرف رخ کریں اور یہ اعلان کریں کہ اگر پاکستان میں مسلمانوں کو حق ہے کہ قرآن کی تعلیم کو ساری قوم پر ٹھونس دیں خواہ کوئی اسے قبول کرے نہ کرے تو ہمارا کیوں حق نہیں کہ ہم منوسمرتی کی تعلیم کو ساری ہندوستانی قوم پر ٹھونسیں خواہ کوئی قبول کرے یا نہ قبول کرے۔پس غلطیوں کے یہ جودور رس نتائج ہیں ان سے آنکھیں بند ہیں۔دو قدم سے زیادہ دیکھ نہیں سکتے اور یہ جو نظر کی کمزوری کی بیماری ہے یہ جب راہنماؤں میں ہو جائے تو ساری قوم کے لئے ہلاکت کا موجب بنتی ہے۔بہر حال ہندوستان میں جو یہ شدیدر و چل پڑی ہے یہ بہت ہی خطرناک عزائم کو ظاہر کر رہی ہے اور دن بدن مجھے ڈر ہے کہ اگر یہ رواسی طرح چلتی رہی تو سارے مسلمان وہاں محصور ہو کر رہ جائیں گے اور احمدیوں پر تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے دوہری حصار ہے ایک حصار غیروں کی غلطی کی وجہ سے ہے اور ایک حصار دل کی مجبوری کی وجہ سے خدا کی خاطر جو بھی مخالفت ہوا نہوں نے بہر حال قبول کرنی ہے اور بڑی وفا کے ساتھ احمدیت سے وابستہ رہنا ہے۔یہ وہ اصحاب الصفہ ہیں جو وسیع تر دائرے سے تعلق رکھنے والے اصحاب الصفہ ہیں۔پس قادیان کے لئے بہبود کی جوسکیمیں ہیں ان سے ہندوستان کی باقی جماعتوں کو محروم نہیں رکھا جائے گا اور وہاں بھی صوبائی امار تیں قائم کر کے جہاں نہیں تھیں وہاں قائم کر دی گئی ہیں اور جہاں تھیں ان کو بیدار کیا گیا ہے۔یہ سمجھا دیا گیا ہے کہ جہاں اقتصادی ترقی کے منصوبے بناؤ وہاں تعلیمی ترقی کے بھی منصوبے بناؤ۔چنانچہ کشمیر میں خدا کے فضل سے پہلے ہی بہت سے سکول بڑی