خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 676 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 676

خطبات طاہر جلدا 676 خطبه جمعه ۲۵ ستمبر ۱۹۹۲ء کرتا، اس کے پیچھے لمبی تیاری ہونی چاہئے۔پس اللہ کے فضل سے کچھ ڈیڑھ دو گھنٹے کی یاڈھائی گھنٹے کے قریب کی میٹنگ تھی شاید۔اس کے بعد بیعتوں کا آغاز ہوا پہلے آٹھ نے خواہش ظاہر کی پھر اور شامل ہونے شروع ہوئے۔شام تک اطلاع ملی کہ سولہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے دوست احمدی ہونے کے لئے ارادہ کر چکے ہیں اور باقاعدہ بیعت کا فارم لے چکے ہیں۔دوسرے روز پھر چار عربوں کی طرف سے پیغام ملا کہ ہم بھی مجلس میں شامل تھے اور فیصلہ کرنا چاہتے تھے مگر کچھ وقت لگا ہے اور رات کو دعائیں کرتے رہے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ نے اُن کو اطمینان بخشا اور انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی موقع دیا جائے ہم آکر دستی بیعت کریں گے۔ہیں کی تعداد اگر چہ بظاہر بہت تھوڑی تعداد ہے لیکن مغربی ملکوں میں چونکہ اسلام کے خلاف بہت ہی بدظنیاں پھیلائی جا چکی ہیں اور صرف اسلام کے خلاف بدظنیوں کی بات نہیں بلکہ مذہب میں دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے۔اسلام خوبصورت دکھائی دے بھی تب بھی اسلام کی طرف آگے بڑھنا اور اُس کی ذمہ داریوں کو قبول کرنا کوئی عام معمولی بات نہیں ہے۔ایسا معاشرہ جو مادہ پرست ہو چکا ہو، جس میں دنیا کی لذتوں میں کھوئے جانے کا رجحان بڑھتا چلا جارہا ہو، جہاں دولت کی ریل پیل ہو، جہاں نفسیاتی طور پر انسان اپنے آپ کو مینار کی چوٹی پر کھڑا دیکھ رہا ہو اور دیگر قوموں کو نیچے گہرائیوں میں وہاں مذہب تبدیل کرنا خواہ وہ معمول ہی کیوں نہ ہو معمولی بات نہیں بلکہ بہت غیر معمولی طور پر نفسیاتی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔اتنا گہرا اثر سچائی کا پڑنا چاہئے کہ اس کے بعد ایک انسان بے بس ہو جائے اور سمجھے کہ مجھے اپنی ساری سوسائٹی کو ترک کرنا پڑے تب بھی مجھے اس حقیقت کو قبول کرنا چاہئے اس میں روشنی ہے، اس میں سکینت ہے، اسی میں میری طمانیت ہے۔تو اس فیصلے کے لئے محض دلائل کافی نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی نمونے، لمبے تعلق اور رفتہ رفتہ دل میں جانشین ہونے والا یہ یقین چاہئے کہ صداقت اور سکینت اور طمانیت اسلام ہی میں ہیں اور اسی میں ہماری اس دنیا کی اور اُس دنیا کی بھلائی ہے۔یہ فیصلے ایک دو گھنٹے کی مجالس میں تو نہیں ہوا کرتے۔یہ فیصلے تو لمبا وقت چاہتے ہیں ، محنت چاہتے ہیں اور اسی لئے دعوت الی اللہ پر میں اتنا زور دیتا ہوں کہ در حقیقت ایک احمدی جو زیادہ علم نہ بھی رکھتا ہوا اگر دعوت الی اللہ کر رہا ہے تو اُس کی نصیحت اثر ضرور کر رہی ہوتی ہے شرط یہ ہے کہ اُس کا اپنا نمونہ نیک ہو، اُس کے اندر ایک ذاتی جاذبیت پائی