خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 666 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 666

خطبات طاہر جلد ۱۱ 666 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۹۲ء اب سوال یہ ہے کہ یہ ہے جہالت۔ہم نے جو کچھ سیکھا ہے رسول اللہ ﷺ سے سیکھا ہے۔اس کے نتیجے میں کچھ قواعد مترتب ہوئے۔ان قواعد کے خلاف اگر کوئی آنحضرت ﷺ کی کوئی سند سامنے آجائے آپ کا فعل ایسا سامنے آجائے جو ان قواعد کے خلاف ہے تو اس فعل کو ان قواعد سے نہیں ناپا جائے گا بلکہ قواعد درست کئے جائیں گے۔یہ کہا جائے گا کہ یہ قواعد بناتے ہوئے ہم سے غلطی ہو گئی آنحضور ﷺ کے سارے افعال کو پیش نظر رکھ کر یہ نہیں بنائے گئے۔بعض افعال ایسے تھے جن سے پتا چلتا تھا کہ ان قواعد میں استثناء ہونا چاہئے تھا۔تو اصل قبلے کی پہچان ضروری ہے اور حقیقت یہ ہے کہ دین ہم نے حضرت محمد صلى الله رسول اللہ ﷺ سے سیکھا ہے اور جو بات آپ سے ثابت ہے اس پر کسی دوسرے کو اعتراض کا حق نہیں۔فقہ نے جو قواعد بنائے ہیں اگر ان کی نظر میں وہ بات نہیں آئی تو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔آج کے زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت ﷺ کی سنت کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔ایک احمدی کے لئے یہی کافی ہے کہ قبلہ نما محمد رسول اللہ ہیں تو محمد مصطفی ﷺ کا چہرہ دکھانے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں اور یہ مکن نہیں ہے کہ آپ کا رُخ کسی اور طرف ہو۔جس طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا رُخ ہو گا لازما و ہیں محمد رسول اللہ ملیں گے۔پس یہی نمازیں جمع کرنے والا مسئلہ ہے ، اس کے متعلق بعض لوگ جو مولو یا نہ مزاج رکھتے ہیں اعتراض کر دیا کرتے ہیں یعنی اجتماعی ضرورت کے وقت ، دینی ضرورت کے وقت نمازیں جمع ہوتی ہیں اور بعض لوگ باہر سے آنے والے کہتے ہیں کہ یہ کیا جماعت میں گندی عادت پڑی ہوئی ہے۔بات بات پر نمازیں جمع کر لیتے ہیں لیکن دیکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قبلہ چونکہ محمد رسول اللہ کی طرف تھا اور آپ کے رستے سے خدا کی طرف تھا اس لئے آنحضرت می نے چودہ سوسال پہلے امت کے شک دور کرنے کے لئے یہات بیان فرما دی تُجمَعُ لَهُ الصَّلوة۔(مسنداحمد باقی مسند السٹرین حدیث نمبر ۷۵۶۲) مسیح جب آئے گا وہ ایسے زمانے میں آئے گا کہ اس کے لئے نمازیں جمع کروائی جائیں گی۔اس کے لئے سے مراد ہے اس کی خاطر ا کٹھے ہوں گے، دینی کاموں کے لئے اکٹھے ہوں گے، ہر موقع پر نہیں۔اہم دینی تقریبات جو سیح کی اغراض و مقاصد کی خاطر منعقد کی جائیں گی ان میں نمازیں جمع کروائی جائیں گی لیکن یا درکھیں یہاں انفرادی نماز کا ذکر