خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 661
خطبات طاہر جلد ۱۱ 661 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۹۲ء تے کوڑا کوڑا تھو تھو کہ جب کسی پیارے کی طرف سے چیز ملتی ہے تو یہ تو نہیں ہوا کرتا کہ میٹھا کھالو اور کٹر وا تھو تھو کرنا شروع کر دو۔دونوں طرف برابر کی بات رکھنی چاہئے اگر ایک چیز احتراماً پسند ہے تو دوسری چیز بھی احتراماً پسند ہونی چاہئے۔ایک بادشاہ کے متعلق آتا ہے کہ اُس کا ایک غلام اس کو بہت ہی پیارا تھا، بے حد عزیز اور دوسرے وزیر اُس سے جلتے تھے اس نے اُس کو وزیروں پر بڑا نگران بنایا ہوا تھا۔دوسرے بڑے لوگ سارے اُس سے جلتے تھے اور اکثر بادشاہ کے کان بھرا کرتے تھے کہ اس میں کیا بات ہے جو آپ کو پسند ہے یہ تو کوئی ایسا خاص عالم فاضل نہیں ہے ، ہم پر کوئی فضیلت نہیں رکھتا، کونسی یہ آپ سے زیادہ وفا کرتا ہے؟ ہم ہر طرف سے زیادہ خاندانی حسب نسب والے لوگ اور معاملات حکومت کو سمجھنے والے ہیں۔اس کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟ ایک دفعہ ایک سردا بادشاہ کی خدمت میں پیش کیا گیا بھرے دربار میں جو بہت دور سے آیا تھا۔سردے میں یہ بات ہے کہ بعض دفعہ بہت ہی کڑوا نکلتا ہے۔میں نے بھی چکھ کے دیکھا ہوا ہے ایسا سردا۔عام طور پر بڑا اچھا ہوتا ہے لیکن بعض سر دے غیر معمولی کڑوے جس طرح بادام کڑوا ہو جاتا ہے اس طرح سر دا بھی کڑوا ہو جاتا ہے تو سردا بہت کڑوا تھا۔تو بادشاہ نے پہلے اپنے اُس غلام کو جو سب سے زیادہ عزیز تھا ایک کاش کاٹ کر دی تو اُس نے کاش لی اور جھوم جھوم کر کھانا شروع کیا۔سب دیکھنے والے سمجھے کہ بہت ہی مزیدار ہے۔اُس پر اس نے دوسری کاش کاٹ کے اُس وزیر کو دی جو سب سے زیادہ اعتراض کیا کرتا تھا۔اُس نے ابھی چکھی تھی تو تھوکنے کیلئے باہر بھاگا اور کہا کہ اتنا گندہ سردا، زندگی میں ایسا سر دا کبھی نہیں دیکھا۔تو بادشاہ نے کہا بس یہی فرق تھا جو میں تمہیں بتانا چاہتا تھا۔یہ ہمیشہ میرے ہاتھوں سے اچھی چیزیں کھاتا ہے لیکن ایک دفعہ بُری بھی ملی تو کتنی قدر کی ہے اس نے۔اس کو دینے والے ہاتھ سے پیار ہے چیز سے نہیں ہے اور تمہیں چیزوں سے پیار ہے دینے والے ہاتھ سے نہیں ہے۔یہی معاملہ خدا کے پاک بندوں کا اللہ تعالیٰ سے ہوا کرتا ہے۔اُس سے بھی وہ اس وجہ سے محبت رکھتے ہیں کہ وہ خدا ہر چیز کا دینے والا ہے، کبھی اُس کی کڑوی تقدیر بھی آجاتی ہے، اُس سے بھی وہ پیار کرتے ہیں۔یہ تو نہیں کہ اچھی تقدیر پر سبحان اللہ سبحان اللہ پڑھنا شروع کر دیا اور بری تقدیر پر اعتراض شروع کر دیئے کہ عجیب خدا ہے ہمیں مصیبت میں ڈال دیا۔پس اس معاملے میں بھی مزاج کا درست رکھنا ضروری ہے۔جہاں مزاج کا توازن یہ تقاضا