خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 660 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 660

خطبات طاہر جلد ۱۱ 660 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۹۲ء نمائندگی کرنے کے لئے بنیادی شرط یہ ہے کہ تمہارا مزاج متوازن ہو۔نہ دائیں طرف جھکنے والے بنو نہ بائیں طرف ، نہ ایک افراط کی طرف نہ دوسری تفریط کی طرف۔اس معاملہ میں اگر آپ لوگ مزاج درست کر لیں تو بہت سے ایسے معاملات ہیں جہاں فتوے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ہر قسم کے حالات میں یہ مزاج آپ کے لئے بہترین فتویٰ مہیا کر دیتا ہے اور طبیعتوں میں بھی ، ٹیڑھا پن، ٹھوکروں کے احتمالات یہ سارے اُٹھ جاتے ہیں۔مثلاً یہ ممالک جہاں فاصلے لمبے ہیں۔جہاں اکٹھا ہونا ایک جگہ آسان کام نہیں۔یہاں جب آپ اجتماعات پر اکٹھے ہوتے ہیں تو نمازیں جمع کی جاتی ہیں۔جو مولوی مزاج ہے جو ایک طرف کی سوچتا ہے وہ یہ کہے گا کہ جی احمدیوں میں تو نماز کا پورا احترام ہی نہیں رہا، نمازیں جمع کرنے میں جلدی کرنے لگ گئے ہیں حالانکہ ملک کا تقاضا جس مقصد سے لوگ اکٹھے ہوئے ہیں، دینی اغراض اور اُس کی مصروفیات ، اُن کا تقاضا اور آنحضرت ﷺ کا متوازن مزاج اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ جہاں جمع کرنے کے لئے جواز موجود ہو وہاں ضرور جمع کی جائیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ آپ نے ایسی حالت میں بھی نمازیں جمع کیں جبکہ نہ بارش تھی ، نہ خطرہ ، نہ سفر صرف دینی اجتماع تھا اور دینی اجتماع کا یہ تقاضا تھا کہ باقی چیزوں میں کیونکہ وقت خرچ کرنا ہے اور وہ بھی دین ہی کے خدمت کے کام ہیں اس لئے جہاں خدا نے سہولت دی وہاں نمازیں جمع کرلی جائیں لیکن ایک مولوی مزاج اس پر اعتراض کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔دوسری طرف آزاد منش لوگ یہ نہیں سوچتے کہ یہ نمازیں جمع کرنے کی اجازت خاص قومی دینی ضرورتوں پر ہے نہ کہ روز مرہ کی زندگی میں۔یہ تو نہیں ہے کہ آپ کو چھٹی ہو۔چونکہ آپ نے اجتماعی دینی کاموں کے وقت نمازیں جمع کی ہیں اس لئے روز مرہ عادت ہی بنالیں ، ظہر کو عصر کے ساتھ جمع کیا جا رہا ہے اور مغرب کو عشاء کے ساتھ جمع کیا جارہا ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ کے اندر توازن نہیں ہے۔توازن کے نتیجے میں ایک طرف انتہا پسندی سے بچنا ہے تو اُسی توازن کا تقاضا ہے کہ دوسری طرف کی انتہا پسندی سے بھی بچیں۔یہ تو نہیں جمع والے حصے میں آپ مزاج درست کر لیں کہ ہاں جی جمع کرنے کی اجازت ہے کوئی بات نہیں ، ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور جہاں الگ الگ پڑھنے کا حکم ہے وہاں کہیں نہیں ہمیں مشکل ہے ہمارے لئے۔پنجابی میں کہتے ہیں ”میٹھا میٹھا ہڑپ