خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 659
خطبات طاہر جلد ۱۱ 659 خطبه جمعه ۱۸ار ستمبر ۱۹۹۲ء دوسروں کو بھی درست کرنے والا ہے۔پھر آنحضرت ﷺ کو اللہ کا نور بیان کرتے ہوئے فرمایا لا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةِ ایسا نور ہے جو نہ مشرق کا ہے نہ مغرب کا دونوں کا سانجھا ہے۔تو یہ مزاج ہے جو احمدیت کا مزاج ہونا چاہئے اس کے بغیر احمدیت صحت مند نہیں رہے گی۔ہمارے اندر نہ افراط ہونی چاہئے نہ تفریط ہونی چاہئے ، توازن کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ شرط لگا دی ہے اگر تم چاہتے ہو کہ دنیا کی نگرانی کرو اور اسی غرض سے تمہیں پیدا کیا گیا ہے تو یہ شرط پوری کرنی ہوگی کہ اُمَّةً وَسَطًا بنو۔ایسی امت بنو جو بیچ کی ہو جس کے متعلق کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ دوسروں کی زیادہ ہوگئی بلکہ درمیان کی چیز سب کی سانبھی ہوا کرتی ہے، تو برابر کا پلڑا ہو۔منصف مزاج ہو، یہ بھی اس میں شامل ہے، انصاف اور تقویٰ سے کام لینے والا ہو۔اگر یہ بات جماعت کو نصیب ہو جائے اور جیسا کہ مجھے اُمید ہے اللہ کے فضل سے اکثر صورتوں میں نصیب ہے لیکن اگر ساری جماعت اس بات پر قائم ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اگلا وعدہ بھی ضرور پورا ہو جائے گا۔لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ تا کہ تم سارے بنی نوع انسان پر نگران بنادیے جاؤ۔بنی نوع انسان پر نگران بننے کے لئے یہ شرط ضروری قرار دے دی گئی کہ تم متوازن مزاج رکھتے ہو نہ مولوی ہو نہ مادر پدر آزاد۔ملائیت کا بھی اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے اور عقل اور فہم اور سوسائٹی کے تقاضوں کے پیش نظر ہر قسم کی آزادی کا بھی اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ایک طرف مولویت کو اسلام رڈ کرتا ہے دوسری طرف آزاد منش طریقے کو بھی رڈ کرتا ہے اور یہ نہیں ہے کہ کھلے بندوں جو چاہے کرتے پھر وہ تو ازن بہت ضروری ہے، بیچ کی راہ اختیار کر نا ضروری ہے فر مایا اگر تم یہ کرو گے تو پھر تمہیں ضرور بنی نوع انسان پر نگران بنایا جائے گا اور اُس کی مثال کیا دی ہے کتنی عظیم الشان مثال ہے فرمایا وَ يَكُوْنَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا تب محمد مصطفی کے تم شایان بنو گے کہ وہ تمہارے شہید بنیں تم پر نگران بنیں۔آپ کیونکہ وسطی ہیں، آپ کیونکہ نہ مشرق کے ہیں نہ مغرب کے، کیونکہ آپ میں کوئی بھی نہیں اس لئے آپ میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو تمام بنی نوع انسان کی نگرانی کی ہیں لیکن آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ خود تو امت کے ساتھ نہیں رہنا تھا اس لئے آپ کا مزاج سمجھا دیا گیا اور فرمایا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ محمد رسول اللہ ہی تمام بنی نوع انسان پر نگران رہیں اور اس کے بغیر بنی نوع انسان بچ نہیں سکتے تو تمہیں محمد مصطفی ﷺ کی نمائندگی کرنی ہوگی اور اُن کی