خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 658
خطبات طاہر جلد ۱۱ 658 خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۹۲ء پک رہے ہوتے ہیں، وہاں زمینیں بہت سستی ہوتی ہیں۔کوئی بڑا فارم ہو تو اُس کا جو فارم ہاؤس وہی اتنا بڑا ہوتا ہے کہ وہ اس پہ آپ کی ضرورتیں آگے چند سال تک پوری ہو سکتی ہیں اگر اُن کو منہدم کر کے مسجد بنانے کی اجازت مل جائے تو شرط صرف یہ ہے کہ اتنی عمارت وہاں ضرور موجود ہو کہ وہ ہماری آئندہ کے آٹھ دس سال کی عمارتوں کی ضرورت کو پورا کر سکے اور رقبہ بے شک زرعی ہو اُس کو ہم دوسری چیزوں میں استعمال کر سکتے ہیں، جلسے ہیں، اجتماعات ہر قسم کے کھیل کود کے میدان ہیں ہمیں اپنی خواتین کے لئے بھی ، ان کی تفریح کے لئے جگہ مہیا کرنی ہے۔ایسے تالاب ہونے چاہئیں جس پر ہماری عورتیں، چھوٹی بچیاں وغیرہ جا کر بے تکلفی سے نہانے کی پریکٹس کریں۔یہ احساس نہ رہے کہ ہم دنیا سے پیچھے ہیں۔اسلام خواتین کو دنیا سے پیچھے نہیں رکھتا بلکہ ان کی حفاظت کرتا ہے۔پس جہاں حفاظت کیلئے عورت کو قربانی دینی پڑ رہی ہے اب مردوں کا کام ہے کہ اُن کی تکلیفوں کو کم کریں اور ایسی صورتیں مہیا کریں کہ اُن میں یہ احساس کمتری نہ رہے کہ ہم دنیا کی لذتوں میں جو جائز لذتیں ہیں حصہ لینے میں مردوں سے پیچھے رہ گئیں۔گھوڑے رکھے جاسکتے ہیں، تیر کمان رکھے جاسکتے ہیں، تیروں کے نشانے لگا نا۔اگر اجازت ہو اور بڑا رقبہ ہو تو بعض جگہ بندوقوں کے نشانوں کے لئے بھی اجازت مل جاتی ہے۔تو اپنی خواتین کو اپنے ساتھ لے کر چلنا ہے اور مرد بھی اپنی بیرونی لذتوں کو لگام دیں اور عورتوں کے لئے جگہ مہیا کریں تو پھر دونوں پیسے متوازن چلیں گے۔ورنہ یہ بالکل ناجائز بات ہے کہ عورت کو دبایا جائے۔اسلام تمہیں بالکل اجازت نہیں دیتا اور مرد جو چاہے کھلے بندوں کرتا پھرے یہ سوسائٹی میں عدم توازن پیدا کرنے والی بات ہے۔یہ جو آیت میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہے اس کا تعلق بھی توازن سے ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا اسی طرح ہم نے تمہیں وسط کی اُمت بنایا ہے۔نہ ایک انتہا کے ہونہ دوسری انتہا کی ، نہ مشرقی ہو نہ مغربی ہو، نہ اشترا کی ہونہCapitalist ہو، ہر پہلو سے اسلام کا مزاج متوازن رکھا ہے، بیچ کا مزاج ہے۔آنحضرت مہ کے متعلق بھی اور قرآن کے متعلق بھی یہی باتیں بیان ہوئیں۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَبَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًان قَيْمَ لِيُنْذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا (الکھف :۳۲) تو اُس میں کوئی غلط جھکاؤ نہیں ہے نہ اسلام میں نہ قرآن میں نہ رسول میں۔بلکہ قیما ہے، بیچ میں کھڑا ہے اور مضبوطی سے مكة