خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 657 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 657

خطبات طاہر جلد ۱۱ 657 خطبه جمعه ۱۸ر ستمبر ۱۹۹۲ء پوری کرنے والی بھی لیکن اب اس جماعت کی تعداد اللہ کے فضل سے اتنی بڑھ چکی ہے اور جماعت میں دلچسپی کا معیار اتنا بڑھ گیا ہے کہ ناصر باغ بالکل چھوٹی سی جگہ ہو کر رہ گئی تھی حالانکہ ساڑھے سات ایکڑ زمین ہے اور اب باہر ایک سو ڈیڑھ سو ایکڑ کا رقبہ تلاش کیا جا رہا ہے۔وہاں بھی مشکل یہی ہے کہ بہت سے ہمارے علاقہ جات ہوائی جہازوں کے شور کی نظر ہو جاتے ہیں۔فرینکفورٹ ایئر پورٹ سے جاتے ہی جہاز جس جگہ سے گزرتے ہیں اور بار بار اتنا شور ہوتا ہے کہ بعض دفعہ لاؤڈ سپیکر پر بھی آواز صحیح سنائی نہیں دیتی۔کوئی جگہ تلاش کریں متوازن طریق پر نمبر ایک، قیمت دیکھیں خواہ دور ہٹنا پڑے کیونکہ جو جگہیں آج دور نظر آرہی ہیں کل دور دکھائی نہیں دیں گی اور ضروری تو نہیں کہ زیورچ کو ہی مرکز بنایا جائے۔فاصلے پاٹنے کے لئے مرکز بنایا جائے۔زیورچ جو مرکز بنایا گیا تھا جو جنیوا سے کتنا دور تھا اُس وقت یہ کیوں نہیں خیال آیا کہ جنیوا زیادہ اہم جگہ ہے اس سے تھوڑا دور نہیں ہونا چاہئے۔مرکز سے بہت زیادہ دور نہیں ہونا چاہیئے۔تو دوریاں اور نز دیکیاں یہ باتیں گزرتی رہتی ہیں یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ احمدی کس جگہ زیادہ آباد ہوں گے لیکن بالعموم یہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں بھی خدا کے فضل سے مرکز ہو وہاں احمدی ضرور آبا د ہو جاتے ہیں اور مرکز بس جاتا ہے اور دوری، نزدیکی کی بخشیں اٹھ جایا کرتی ہیں۔مسجد فضل لندن جب اُس کی جگہ خریدی گئی تو چوہدری فتح محمد صاحب سیال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ جگہ تلاش کی بڑی محنت سے ، اچھی جگہ تھی۔حضرت مصلح موعودؓ کو لکھا کہ ہر پہلو سے بہت اچھی جگہ ہے صرف ایک خرابی ہے کہ لندن سے دور ہے۔اب تصور کریں کہ لندن سے اُس وقت یہ جگہ دور سمجھی جاتی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ نے جواب دیا کہ باقی باتیں ٹھیک ہیں تو دوری کی فکر نہ کریں لندن خود قریب آجائے گا۔اب وہ علاقہ لندن کا بہترین علاقہ ہے قیمتوں کے لحاظ سے بھی وہ بہترین رہائش کا علاقہ سمجھا جاتا ہے، امن کے لحاظ سے ہر لحاظ سے بہت اچھی جگہ ہے ، ومبلڈن پاس ہے۔تو سوئٹزر لینڈ میں زمین ہونی چاہئے باقی ارد گرد کے علاقے آپ کے قریب آجائیں گے اور جگہ اچھی لیں کھلی لیں اور اتنی جگہ پہ ہاتھ ڈالیں جتنا کچھ نہ کچھ تو فیق تو ضرور ہو۔حد سے زیادہ بڑھی ہوئی بات نہ ہو کہ ساری مسجد کے چندے سوئٹزر لینڈ میں ہی کھپ جائیں اس لئے امید ہے کہ آپ اب سب اجتماعی طور پر نظر رکھیں گے اور کوئی دیہاتی علاقہ بھی نظر آ جائے کہیں بعض دفعہ فارمز