خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 647
خطبات طاہر جلد ۱۱ 647 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۹۲ء اس لئے دیکھنے میں تو یہ فرق ہے کہ فلاں نماز تو پڑھتا ہے اور فلاں بدی اس میں موجود ہے اور اگر کوئی بدی اس میں موجود ہے تو یاد رکھیں کہ اُس بدی کے خلاف ہر نماز میں کوئی نہ کوئی شرمندگی بھی وہ محسوس کر رہا ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی آواز اُس کے کانوں میں ضرور پڑ رہی ہوتی ہے، لیکن ایک بے نمازی بیچارہ تو بالکل محروم ہے۔اندھا دھند آنکھیں بند کئے ہوئے وہ ایک گندی عادت میں مبتلا ہے تو مبتلا ہی رہ جاتا ہے اور بد عادتیں پکڑ لیتا ہے اور رفتہ رفتہ اپنے مفاد سے بھی غافل ہو جاتا ہے، اپنے بیوی بچوں کے مفاد سے بھی غافل ہو جاتا ہے اور بڑی ایک نحوست کی سی حالت ہے۔ایسا گھر جس میں نماز نہ پڑھی جاتی ہو، جس گھر میں خاوند نماز نہ پڑھے، اُس کی بیوی کی نمازیں بے چاری کی اکیلی کام نہیں دے سکتی، بعض دفعہ بچے ماں کی بجائے باپ کی حالت کو دیکھ کر اُس سے رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور ویسے بھی گھر پر ایک نحوست سی طاری رہتی ہے۔تو میں آپ کو بڑے خلوص کے ساتھ ، بڑی منت کے ساتھ یہ گزارش کرتا ہوں ، اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ نماز کو اہمیت دیں اور گھر میں سے ہر فرد نماز پر نگران ہو جائے جس طرح کہ مجھے بعض بچے لکھتے ہیں تو بہت پیارے لگتے ہیں۔جب بڑوں کے متعلق لکھتے ہیں کہ اُن کو نماز پڑھنے کی عادت نہیں۔دعا کے لئے لکھتے ہیں کہ بعض دفعہ خیال آتا ہے کہ اس بچے کے دل کی جو دعا ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی شاید سن لی ہو۔تو نہ صرف نگران بنیں بلکہ دعائیں کرتے ہوئے نگران بنیں اور جو کوشش بھی اُن کے بس میں ہے وہ کریں تاکہ کسی احمدی گھر میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ رہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو یا بڑا ہو یا بچہ جو عبادت نہ کرتا ہو اور پھر عبادت کرنے والا بھی ایسا ہو جو ہر وقت اپنی عبادت کو زندہ کرنے میں کوشاں ہو۔صرف ظاہری اُٹھک بیٹھک پر راضی نہ ہو بلکہ جب تک اُس کے دل میں سے عبادت کا مزا اٹھنا نہ شروع ہو جائے اُس وقت تک وہ تسلی نہ پائے۔جرمنی کو ایسے عبادت کرنے والوں کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دنیا بہت زیادہ مادہ پرست ہو چکی ہے۔اتنا خدا سے دور جا چکا ہے یہ ملک صرف جرمنی کی بات نہیں ، یورپ کے اکثر ممالک کہ ایک ایسے مقام پر کھڑے ہو گئے ہیں جہاں جا کر کوئی روک باقی نہیں رہتی۔ان کے سکولوں میں چھوٹے ہوں یا بڑے، ان کے کالجوں میں ، یونیورسٹیوں میں کھلم کھلا خدا کے خلاف باتیں، ان کی تعلیم اور تدریس میں ایسے رنگ آچکے ہیں جن کے نتیجے میں عملاً ارادے کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچوں کو خدا