خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 639
خطبات طاہر جلد ۱۱ 639 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۹۲ء آتی ہے کہ نہیں۔اگر وہ نمازیں ادا کریں تو یقینا یہ نمازیں نہ صرف خود کھڑی ہوں گی بلکہ پڑھنے والے کو بھی مستحکم کر دیں گی اور اُس کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کر دیں گی۔جولوگ اس طرح نماز نہیں پڑھتے اُن کو نماز میں لطف نہیں آتا اور لطف نہ آنے کے نتیجے میں وہ اور بھی زیادہ نماز سے غافل ہوتے چلے جاتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ مفت کی بیگارسی ہے۔باقی باتوں میں ہم ٹھیک ٹھاک ہیں، چندے بھی دے دیتے ہیں، وقار عمل بھی کر دیتے ہیں، جماعت کے فنکشن اور تقریبات پر بھی چلے جاتے ہیں تو چلو کوئی بات نہیں نماز نہ سہی۔یہ بالکل جھوٹا تصور ہے، بالکل باطل، بے حقیقت،اگر نماز نہیں تو باقی کسی چیز کی بھی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ نماز خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کرتی ہے اور جس کا خدا سے تعلق نہیں، اُس کا چندے دینا بھی بے معنی ہے، اُس کا وقار عمل کرنا بھی بے معنی ہے، اس کی ساری باتیں سرسری اور ایک ظاہری حیثیت اختیار کرتی ہیں اُن میں کوئی جان اور زندگی نہیں ہوتی وہ خدا کو پسند نہیں آتی۔عبادت کے قیام کے سلسلے میں میں بہت سی باتیں پہلے بیان کر چکا ہوں جن کو دہرانے کی ضرورت نہیں سمجھتا لیکن اتنا ضرور بتانا چاہتا ہوں کہ عبادت کرنے والا اگر ہمیشہ اپنے نفس میں اس بات کی تلاش کرتا رہے کہ نماز کے دوران میرا خدا تعالیٰ سے کچھ براہ راست تعلق قائم ہوا ہے یا نہیں، کوئی رابطہ بنایا نہیں بنا اور اس تعلق اور رابطے کے نتیجے میں میرے دل میں کوئی تحریک پیدا ہوئی ہے یا کوئی تموج پیدا ہوا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ جب آپ کسی محبوب سے ملاقات کے لئے جاتے ہیں یا دنیا کے لحاظ سے کسی بڑے آدمی سے ملاقات کے لئے جاتے ہیں خواہ وہ محبوب ہو یا نہ ہوتو جانے سے پہلے ہی خیالات میں ایسی ملاقات کے خیال میں گم رہتے ہیں اور خیالات کئی قسم کی باتیں سوچتے ہیں یعنی ذہن کئی قسم کی باتوں کو سوچتا ہے اور خیالات ان باتوں میں گم ہوتے ہیں کہ ہم یہ بھی کہیں گے اور وہ بھی کہیں گے، اگر شکایت ہے تو یہ شکایت کریں گے ، اگر کوئی طلب ہے تو فلاں بات طلب کریں گے اور جب ملاقات شروع ہوتی ہے تو بعض دفعہ ملاقات کا اپنا لطف ان کے مزاج پر ، ان کے دماغ، ان کے دل پر اس حد تک غالب آ جاتا ہے کہ ساری سوچوں کی باتیں ان کہی میں ہی رہ جاتی ہیں اور انسان بغیر کہے ہی اُٹھ کے آجاتا ہے لیکن یہ کیفیت اس لئے ہے کہ انسان کے ذہن پر اُس ملاقات کے کرنے کا خاص اثر ہوا کرتا ہے۔یعنی ملاقات سے پہلے ہی وہ اثر اُس کے ذہن ، اُس کے دل پر