خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 638 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 638

خطبات طاہر جلد ۱۱ نماز میں شامل ہوتے ہیں۔638 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۹۲ء قرآن کریم میں اس چیز کو ایک بہت بڑی غلطی قرار دیا ہے، بہت بڑا گناہ قرار دیا ہے۔فرماتے ہیں ایسے نماز پڑھنے والے جن کا دل نماز میں نہ ہو جو سنجیدگی کے ساتھ نماز میں خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر اُس کے آداب بجا نہیں لاتے ، غفلت کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں اور غفلت کی حالت میں سلام پھیر کر چلے جاتے ہیں۔فرمایا اُن کی حالت یہ ہے لا الى هَؤُلَاءِ وَلَا إِلى هَؤُلاء (النساء:۱۴۴) نہ وہ اس طرف کے لوگ ہیں نہ وہ اُس طرف کے لوگ ہیں، نہ دین کے رہے نہ دنیا کے رہے۔جس طرح ایک شاعر نے کہا ہے: نہ ادھر کے رہے، نہ اُدھر کے رہے نہ خدا ہی ملا ، نہ وصال ایسی باتوں کا کیا فائدہ جو دنیا والوں سے بھی انسان کو تو ڑ دے اور خدا سے بھی تعلق قائم نہ کر سکے۔پس عبادت کی طرف توجہ کرنا زندگی کا اہم ترین فریضہ ہے۔عبادت کے قیام کی خاطر حقیقت میں دنیا میں مذاہب آئے اور تمام مذاہب کی ریڑھ کی ہڈی عبادت رہی ہے اور تمام مذاہب کی سب سے پہلی، سب سے اہم تعلیم عبادت ہی تھی چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ( البینہ: ۶ ) کہ کوئی بھی مذہب دنیا میں ایسا نہیں آیا جسے خدا نے یہ ہدایت نہ کی ہو کہ عبادت پر قائم ہو جاؤ۔اللہ کی عبادت کرو مُخْلِصِينَ لَهُ الدين (البيه : ) ، حُنَفَاء لِلهِ (الحج:۳۲) کے لفظ بھی آتے ہیں کہ اللہ کی طرف جھکتے ہوئے، ایسی حالت میں جھکتے ہوئے کہ جب گرو تو خدا کی طرف گرو اور دین کو خدا کی خاطر خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو تو جب دنیا کے ہر مذہب کو عبادت ہی کے قیام کی خاطر پیدا کیا گیا تو احمدیت اس کے سوا کوئی اور مقصد نہیں رکھتی اور نہ رکھ سکتی ہے۔عبادت پر اگر انسان قائم ہو جائے یا جماعتیں قائم ہو جائیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ظاہر کو بھی سنجیدگی سے اُس کے تمام لوازمات کے ساتھ ادا کریں اور باطن میں بھی اپنے نفس میں بار بار ڈوب کر ہمیشہ اس بات کی تلاش میں رہیں کہ عبادت کے نتیجے میں اُن کی روح میں کوئی تبدیلی پیدا ہو رہی ہے کہ نہیں ، اللہ تعالیٰ کی یا د واقعۂ دل پر اثر انداز ہو رہی ہے کہ نہیں ، وہ دل پر تموج کی کیفیت