خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 637
خطبات طاہر جلدا 637 خطبہ جمعہ ا ار ستمبر ۱۹۹۲ء کھڑے ہونے اور جھکنے اور سجدہ کرنے کو عبادت سمجھتے ہیں یا ہونٹوں سے بعض لفظوں کو ادا کرنے کو عبادت سمجھتے ہیں۔اُن کی ساری زندگی بھی عبادت میں خرچ ہو جائے تو اُن کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔صرف اتنا ہی حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ یہ سوچتے ہوئے مریں گے کہ ہم نے خدا کی خاطر اُس کے حکم کی پابندی کی ہے مگر اُس حکم سے ان کو کیا فائدہ پہنچنا تھا اس سے اُن کو کوئی غرض نہیں۔اسی لئے جماعت احمدیہ کو بار بار میں نے یہ سمجھایا کہ نماز کیا ہوتی ہے، کس طرح پڑھنی چاہئے ، کیا کیا ضروریات ہیں جن کو پورا کئے بغیر نماز مکمل نہیں ہوتی اور نماز کے دوران کیسی جدو جہد کی ضرورت ہے جو زندگی بھر انسان کے ساتھ رہتی ہے تاکہ نماز پڑھنے والا مسلسل پہلے سے بڑھ کر نماز سے فائدہ اٹھانے کی استطاعت حاصل کرتا چلا جائے۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ اگر چہ دنیا میں بہت سے ممالک میں ایسے فرقے بھی ہیں جو ظاہری نماز کی پابندی میں جماعت احمدیہ کو بھی شرماتے ہیں لیکن وہ ایک ظاہری خول سا ہے جس کے اندر کوئی زندہ روح دکھائی نہیں دیتی۔وہابی فرقے کے لوگ ہیں ، بڑی بھاری تعداد میں، بہت بڑی اکثریت میں نمازیں ادا کرتے ہیں مگر اٹھنا بیٹھنا نماز کا نام ہے۔روح کے اندر کوئی پاک تبدیلی پیدا نہیں ہوتی جو اُن کے اخلاق پر اثر انداز ہو۔دیکھنے والا یہ محسوس کر سکے کہ یہ خدا والے لوگ ہیں ، ان کے اندر بنی نوع انسان کی ہمدردی پیدا ہو، اللہ تعالیٰ سے محبت اور تعلق بڑھتا چلا جائے۔یہ علامتیں ہیں جو زندہ عبادت کی علامتیں ہیں وہ ان میں دکھائی نہیں دیتیں۔پس اس پہلو سے جب میں کہتا ہوں کہ جماعت احمد یہ عبادت کے لحاظ سے دنیا میں بے مثل ہے تو محض ایک زبانی دعوی نہیں بلکہ حالات پر نظر ڈالتے ہوئے ، حقیقت کے طور پر یہ بات بیان کرتا ہوں لیکن ساتھ ہی اس طرف بھی نظر جاتی ہے اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ جماعت میں نوجوانوں کا ایک ایسا طبقہ ہے جو نمازوں سے غافل ہے۔جس نے ظاہر کی نماز ادا نہیں کی باطن کی اُس کی نماز کیسے ہو سکتی ہے؟ اگر چہ ایسے نماز نہ پڑھنے والے بعض دوسری باتوں میں دین سے محبت کی علامات رکھتے ہیں ، مالی قربانی بھی پیش کر دیتے ہیں ، جانی اور وقت کی قربانی بھی پیش کر دیتے ہیں لیکن جب نمازوں کا وقت آتا ہے تو اُن سے غافل ہو جاتے ہیں۔گھروں میں بھی نمازوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔باجماعت نماز کے لئے جب مواقع میسر آتے ہیں تو سستی اور غفلت کی حالت میں