خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 623 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 623

خطبات طاہر جلد !! 623 خطبه جمعه ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء ایسی روشنی مقرر کی ہو جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہے کہ وہ اندھیروں میں پڑا ہوا ہے اور اُن سے کسی وقت بھی نہیں نکلتا۔ اسی طرح کا فروں کے لئے ان کے اعمال خوبصورت کر کے دکھائے جائیں۔ اب یہ کیا باتیں ہو رہی ہیں ؟ کون مردہ تھا جسے زندہ کیا گیا ،کون وہ ہے جو اندھیروں میں بھٹکتا پھرتا ہے اور اُن سے باہر آنے کا نام نہیں لیتا اس کو مزید واضح کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے۔ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ اَكْبِرَ مُجْرِ مِيْهَا لِيَمْكُرُ وا فِيهَا ۔ اس طرح ہم نے تمام بڑی بڑی بستیوں اور قوموں میں ایسے بڑے لوگ پیدا کئے ہیں جو جرموں میں بڑے تھے۔ جو اپنے جرائم کے ذریعہ سے بڑی بڑی حیثیتیں اختیار کر گئے وہ بھی اکبر مُجْرِ مِنْهَا ہیں یا وہ لوگ جو بڑے لوگ تھے اور عواقب سے بے خوف ہوکر انہوں نے بڑے بڑے جرم کئے وہ بھی اَكْبِرَ مُجْرِ مِيْهَا میں آتے ہیں۔ پس ایسی سوسائٹی جو بد ہو چکی ہو اُس کے بڑے لوگ بدترین ہوتے ہیں اور مذہب میں جب مذہب بگڑ جائیں تو اُن کے بڑے لوگ یعنی علماء بدترین ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے مضمون کو وہ حدیث واضح فرماتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے رسول محمد ﷺ نے صلى الله سلام ہمیں اطلاع دی کہ جب زمانہ بگڑے گا اور لوگ اسلام کے نام پر دھوکہ دیں گے تو فرمایا علما ء ھم شر من تحت اديم السماء (مشكوة كتاب العلم والفضل صفحہ: ۵۸) ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے ۔ پس وہی مضمون ہے۔ جس حالت پر بھی اطلاق پائے گا جب شر پھیل جائے تو اُس سوسائٹی کے بڑے لوگ اپنے دائرہ کار میں سب سے زیادہ شریر ہوتے ہیں۔ اگر سیاست میں شر ہے تو وہ سیاسی راہنما سب سے زیادہ شریر ہیں جن کی وجہ سے شر پھیلتا ہے یا افزائش پاتا ہے۔ فرمایا وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ اَكْبَرَ مُجْرِ مِيْهَا لِيَمْكُرُوا فيها اور وہ پھر مکر کرتے ہیں ۔ یہ عجیب بات ہے کہ جہاں بھی سوسائٹی بد ہو جائے وہاں بڑے لوگ ضرور مکر سے کام لیتے ہیں نہ سیاست پاک رہتی ہے، نہ تمدن پاک رہتا ہے، نہ اقتصادیات پاک رہتی ہیں اور بد سوسائٹی کے بڑے لوگ لازما مکر سے کام لے رہے ہوتے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کا ایک ایسا نکتہ ہے جس پر میں نے غور کر کے چاروں طرف نظر دوڑا کر دیکھا تو یہ حیرت انگیز راز مجھے سمجھ میں آیا جو آج کی سوسائٹی پر اطلاق پاتا ہے اور