خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 57 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 57

خطبات طاہر جلد ۱۱ 57 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء پر ایک ایسا منصوبہ پیش کریں گے کہ جس سے یہ نہیں لگے کا کہ گویا پرانے مکان ساتھ مدغم کئے گئے ہیں بلکہ ایک ہی رنگ کا مکمل ہسپتال رونما ہو گا تو آئندہ چھ سات مہینے کے اندر اندر انشاء اللہ وہاں کے ہسپتال کے اندر ایک نئی شان و شوکت پیدا ہوگی اور یہ ساری عالمی جماعت کی قربانیوں کا نتیجہ ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ بھی جماعت قربانیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہے گی۔ہسپتال کے سلسلہ میں ایک یہ بھی منصوبہ بنایا گیا ہے کہ بیرونی ڈاکٹر جو کسی نہ کسی فن میں غیر معمولی شہرت رکھتے ہیں یا ملکہ ان کو عطا ہوا ہے اور وہ جب بھی ان کو توفیق ملے قادیان کے ہسپتال کے لئے وقف کریں اور اس صورت میں ہم وہاں کیمپ لگایا کریں گے۔مثلاً کوئی آنکھوں کے آپریشن کا ماہر ہے اور وہ ایک مہینہ دو مہینے وقف کرتا ہے تو دور دور کے علاقے سے لوگوں کو یہ دعوت دی جائے گی کہ آئیں اور قادیان سے مفت فیض حاصل کریں اور ان آپریشنوں کی کوئی فیس نہیں لی جائے گی یا اگر لی گئی تو اس رنگ میں کہ صاحب حیثیت امراء سے کچھ لے لیا جائے گا اور غرباء کا محض مفت علاج ہو گا اسی طرح دل کے ماہرین ہیں۔پھیپھڑوں کے ماہرین ہیں اور انتڑیوں وغیرہ کی بیماریوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین ہیں۔اعصابی امراض کے ماہرین ہیں ، سرجری میں ہڈیوں کی سرجری کے سپیشلسٹ ، دل کی سرجری کے سپیشلسٹ وغیرہ وغیرہ۔جہاں تک میں نظر ڈال کر دیکھ رہا ہوں خدا کے فضل سے ہر مرض کے علاج میں اس وقت احمدی ماہرین مہیا ہو چکے ہیں اور خدا کے فضل سے اپنے اپنے دائرے میں بہت شہرت یافتہ لوگ ہیں۔ہر قسم کی جراحی کا کام اگر چہ اس وقت وہاں نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے لئے ایک سپورٹ کمپلیکس کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔مثلاً دل کا سر جن یعنی جو دل کا ماہر جراح ہے وہ ہر جگہ تو ہسپتال میں جا کر آپریشن نہیں کر سکتا۔اس کے لئے بہت سے ایسے متعلقہ سامان چاہیں ، بہت سے ایسے ماہرین چاہئیں جو سب مل کر وہ فضا قائم کرتے ہیں جس میں جراحی کا وہ درخت لگتا ہے تو امید یہی ہے کہ انشاء اللہ رفتہ رفتہ اس ہسپتال کو بڑھاتے بڑھاتے اس مقام تک پہنچادیں گے کہ جس میں دنیا کے بہترین ہسپتالوں میں اس کا شمار ہو اور خدا کے فضل سے آغاز ہو چکا ہے۔ایک اور پہلو تعلیم کا ہے۔اس حصہ میں میں جماعت کو دعاؤں کی تحریک کرتا ہوں کہ ابھی بہت سی روکیں ہیں۔جہاں تک جماعت احمدیہ کے سکول اور کالج کا تعلق ہے اگر چہ حکومت نے