خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 56

خطبات طاہر جلد ۱۱ 56 56 خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۹۲ء کا نام روشن ہونا چاہئے۔بجائے اس کے کہ قادیان کے ہر مریض کو کٹھیوں میں ڈال کر بٹالہ یا امرتسر یا جالندھر بھجوایا جائے ، بٹالہ یا امرتسر یا جالندھر یا دیگر علاقوں سے لوگ قادیان کے ہسپتال میں شفاء کے لئے آئیں۔کیونکہ جو شفا خدا نے قادیان کے ساتھ وابستہ کر رکھی ہے اُس سے اردگرد کا علاقہ فی الواقعہ ہی محروم ہے کیونکہ اس شفا کے ساتھ دعاؤں کا بھی تعلق ہے۔اس شفاء کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیئے گئے وعدوں کا تعلق ہے۔پس اگر ہسپتال کی ظاہری حالت بہتر بنائی جائے تو مجھے یقین ہے کہ جو شفا اس ہسپتال میں تمام پنجاب کے باشندوں کو یا باہر سے آنے والوں کو نصیب ہوگی اس کا عشر عشیر بھی وہ باہر نہیں دیکھیں گے۔چنانچہ ابھی سے یہ محسوس ہونا شروع ہوا ہے کہ اگر چہ ابھی پوری طرح قادیان کے ہسپتال کے وقار کو بحال نہیں کیا جاسکا۔لیکن جو کچھ بھی کیا جا چکا ہے اس کے نتیجہ میں مریضوں کا غیر معمولی رخ ہو چکا ہے اور بہت سے مریض دور دور سے آتے ہیں جن کو توفیق ہے کہ بہت بڑے ہسپتالوں میں جا کر زیادہ سے زیادہ اخراجات کر سکیں وہ بھی قادیان یہ کہہ کر اس نیت کے ساتھ آتے ہیں کہ جو شفاء یہاں میسر ہے وہ باہر نہیں مل سکتی۔پس اس ضمن میں ابھی آنے سے پہلے ان کی بعض ضروریات کے سامان مہیا کر کے آیا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے جو کچھ پیش کیا تھا اسی میں سے وہ خرچ بھی کیا گیا۔بہترین ایکسرے کی مشینیں وہاں لگ چکی ہیں۔تجربات کی بہترین مشینیں کچھ وہاں لگ چکی ہیں کچھ مہیا کی جارہی ہیں۔ہر قسم کے جدید آلات جو مریضوں کی سہولت کے لئے ضروری ہیں اُن کے لئے اخراجات مہیا کر دیئے گئے ہیں اور موجودہ ہسپتال کے ساتھ قادیان کا جو ر ہائشی علاقہ تھا سر دست اس میں سے ایک حصہ ہسپتال کے لئے وقف کر دیا گیا ہے۔اس سے پہلے خدا تعالیٰ نے جو تو فیق بخشی تھی کہ مکانات بنائے جائیں اور ان میں سے کچھ تقسیم کے لئے بھی ہوں۔یہ سکیم تھی جو بوت احمد کے نام سے جاری کی گئی تھی اس میں تقسیم کے لئے جو مکانات تھے وہ تو نہیں تھے لیکن ۲۳ مکانات بنائے گئے تھے۔اب ان کا یہ فائدہ پہنچ رہا ہے کہ قادیان کے مرکزی علاقے سے بعض درویش خاندانوں کو دوسری جگہ منتقل کرنا ضروری ہو تو بڑی سہولت سے ایسا ہوسکتا ہے۔چنانچہ یہ تجویز مکمل ہوگئی ہے۔مکانوں کی نشاندہی ہوگئی ہے۔اب دوسرے دور میں یہاں سے انشاء اللہ عبدالرشید صاحب آرکیٹیکٹ وہاں جا کر ان مکانوں کو ہسپتال کے اندر جذب کرنے کے لئے نہایت جدید طریق