خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 609 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 609

خطبات طاہر جلد ۱۱ 609 خطبه جمعه ۲۸ اگست ۱۹۹۲ء اپنے آپ کو آزاد سمجھتے ہیں۔یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری کوئی پکڑ نہیں ہے ہم طاقتور بھی ہیں ، ہم مکار بھی ہیں، فریب میں ہر دوسرے پر بازی لے جاتے ہیں، کون ہے جو ہمارے ہاتھ کو روک سکے گا ؟ مگر قرآن کریم خبر دیتا ہے۔فرماتا ہے۔أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّاتِ اَنْ تَخْسِفَ اللهُ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ أَوْ يَأْخُذَهُمْ فِي تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمُ بِمُعْجِزِيْنَ اَوْ يَأْخُذَهُمْ عَلَى تَخَوُّفٍ فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ (النحل : ۴۶ تا ۴۸) وہ طاقتور مکار ( یہاں طاقتور کا مضمون اس میں شامل ہے کیونکہ جو بات بیان کی جارہی ہے وہ طاقتور ہی کا بیان ہے) قو میں کیا بجھتی ہیں کہ بدی کے مکر کے ذریعہ یہ امن میں رہیں گی۔ان کو امن نصیب ہو گا۔کس چیز سے امن نصیب ہو گا۔کیا اس بات سے امن حاصل کریں گی کہ اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں دھنسا دے اور زلزلے آئیں اور ایسے خوفناک زمینی عذاب ظاہر ہوں کہ ان کو ہلاک کردیں؟ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ یا ایسی طرف سے عذاب آنے شروع ہوں کہ ان کو پتا نہ لگے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔اب امریکہ میں پچھلے دنوں جو خوفناک طوفان آئے ہیں اُس کے نتیجہ میں اب تک بیان کیا جاتا ہے کہ کم از کم پندرہ ارب ڈالر کا نقصان امریکہ کا ہو چکا ہے اور لکھوکھہا انسان شدید مصیبتوں میں مبتلا ہیں۔ان کے نزدیک تو یہ ایک ارضی حادثہ ہے مگر نہیں سوچتے کہ ارضی حادثات بھی آسمان کی مرضی کے تابع ہوتے ہیں اور خدا جب چاہے ان کو ٹال بھی سکتا ہے۔جب چاہے ان کو عذاب کی صورت میں ظاہر فرما سکتا ہے۔کسی قوم کے اوپر ان کو عذاب کے طور پر ان کی کمر توڑنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔لَا يَشْعُرُونَ نے دو باتیں ظاہر کی ہیں کہ ان کو پتا ہی نہیں کہ کہاں سے آ رہے ہیں۔نہ یہ پتا چلتا ہے کہ ہماری بد اعمالیاں ہیں جن کے نتیجہ میں یہ سزا ہے اور نہ یہ پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بداعمالیوں کے نتیجہ میں یہ سزائیں مرتب فرما رہا ہے۔قانون قدرت تو قانون قدرت ہی ہے مگر