خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 608
خطبات طاہر جلد ۱۱ 608 خطبه جمعه ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء زبان سے کچھ کہیں یا نہ کہیں مگر اس کے خلاف سعودی عرب کا شدید ردعمل ہوگا۔چنانچہ وہ دوسرے ممالک کو پہلے بھی شیعہ سنی فساد کرانے کے لئے پیسے دیتے ہیں اب وہ اور بھی زیادہ دیں گے کیونکہ ان کو خطرہ ہوگا کہ ایرانی طاقت ہمارے اور قریب آگئی ہے۔پس یہ ایسی بات نہیں ہے کہ ان لوگوں کو پتا نہیں کہ اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔سازش میں یہ بھی شامل ہیں ایک طرف سنیوں پر ظلم کرنے کے لئے شیعوں کو بہانہ بنایا جائے اور بظاہر شیعوں کی حفاظت ہو رہی ہے سنیوں پر ظلم ہو رہا ہے لیکن یہ کیا کہ دوسری طرف سنیوں کو مجبور کیا جائے کہ پھر وہ شیعوں پر ظلم کریں اور اس طرح سارا عالم اسلام جس کے کبھی کبھی قریب آنے کے امکان ہوتے ہیں نہ صرف پھٹا رہے بلکہ پہلے سے بڑھ کر ایک دوسرے سے دور ہو جائے اور نفرتیں پہلے سے زیادہ بڑھ جائیں۔یہ وہ ہوشیاریاں ہیں جن کا نام سیاسی مکر ہیں۔سیاست میں تو اتنے مکر چل رہے ہیں اور ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ دنیا کے کسی خطے پر آپ نظر ڈال کر دیکھیں مکر ہی مکر ہے۔صرف ایک فرق ہے کہ ہمارے ملک پاکستان میں مثلاً اور اسی طرح ہندوستان میں بھی زیادہ تر مکر اپنے آدمیوں سے ہور ہے ہوتے ہیں۔سیاست دانوں کی جتنی چالاکیاں ہیں ساری عوام کے مفاد کے خلاف ہوتی ہیں۔مگر ہیں لیکن وہ مکر اپنوں پر چل رہے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں بھی مکر ہیں مگر غیروں پر چلتے ہیں۔اپنے لوگ جو ہیں وہ ان کے مکر برداشت نہیں کرتے۔مجال نہیں صدر بش کی کہ وہ امریکہ کے ساتھ مکر کر کے دیکھے جب بھی مکر کریں یا مکر کی کوشش کرتے ہیں تو جو بھی امریکہ کے پریذیڈنٹ مکر کی کوشش میں ملوث ہوتے ہیں ساری قوم اُن کے پیچھے پڑ جاتی ہے ان کو ننگا کر کے دکھا دیتی ہے۔کسی کا نام ”Water Gate “ رکھا جاتا ہے۔کسی کا نام Iran Gate “ رکھا جاتا ہے۔گیٹیوں کا بہت شوق ہے لیکن جتنے بھی گیٹ ہیں وہ سارے مکر پر بنتے ہیں۔بے شک آپ اُن کا جائزہ لے کر دیکھ لیں وہ مکر قوم معاف نہیں کرتی اس لئے کسی بھی مغربی سیاست دان کی مجال نہیں کہ اپنی قوم سے مکر کرے لیکن جب غیروں سے مکر کرتے ہیں تو سب آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔چند ایک شریف دیانت دار صحافی آواز اُٹھاتے ہیں مگر نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے۔وہ آواز صرف تاریخ کے حقائق کو ریکارڈ کرنے کے لئے ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔اس آواز کی بازگشت آئندہ نسلوں میں سنائی دے گی اور وہ نسلیں ان گزرے ہوئے سیاستدانوں پر لعنتیں بھیجیں گی مگر اس زمانے میں ، اس وقت یہ