خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 607 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 607

خطبات طاہر جلد ۱۱ 607 خطبه جمعه ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء آپ سن کر دیکھ لیں۔وہاں آپ کو ہر دفعہ آپ کو یہی بات دکھائی دے گی کہ سب کہتے ہیں ہم باتیں کر رہیں ہیں لیکن ان باتوں کے پیچھے ایک بھی عمل ایسا نہیں جو ان باتوں کے بعد ان کو سچا کرنے کے لئے ظاہر ہو لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ جو باتیں کرتے ہیں وہ بھی بالکل معمولی ہیں۔جتنے بڑے بھیانک جرم ہورہے ہیں ان کا جو علاج باتوں میں تجویز ہورہا ہے وہ علاج ہی کوئی نہیں لیکن اتنا بھی نہیں کرتے۔ایک طرف بوسنیا کے یہ مسلمان ہیں جن کے ساتھ یہ ظلم ہے اور اس میں سب سے زیادہ مجرم امریکہ ہے جس نے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں بلکہ یورپ کے ان ممالک کو بھی آنکھیں بند کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے جن کے اندر بے چینی پیدا ہورہی ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ نقصان ہوگا اور بالآخر ہمارے لئے یہ چیز فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتی مگر دوسری طرف عالم اسلام کی ہمدردی یہ ہے کہ شیعوں کہ ساتھ ہمدردی پیدا ہوگئی یعنی مسلمانوں میں سے شیعہ ہیں جو ان کی ہمدردی کے مستحق ہیں اور عراق پر ظلم کرنے کے لئے وہ کہتے ہیں کہ تمہارے ملک کا جو یہ حصہ ہے اس پر تم نے اپنے جہاز نہیں اڑانے کیونکہ تم شیعوں پر ظلم کر رہے ہو اور ہم عیسائی یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ شیعہ مسلمانوں پر کوئی ظلم ہو۔کیسی منطق ہے؟ کیا دلیل ہے؟ کون سی سچائی اس میں پائی جاتی ہے؟ الف سے کی تک دھوکہ ہی دھوکہ اور فریب کاری ہی فریب کاری لیکن سنی مسلمانوں کے وہ ممالک جو ان کے ساتھ ہیں وہ بالکل خاموش بیٹھے ہوئے ہیں وہ کوئی انگلی نہیں اُٹھا ر ہے لیکن یہ دھو کہ یہاں ختم نہیں ہو جاتا۔یہ جانتے ہیں کہ اگر شیعہ نام کے اوپر انہوں نے بعض شیعہ اقلیتوں کی مدد کی تو اردگرد کے سنی ممالک میں ان کے خلاف رد عمل ہونا لازم ہے پس وہ رد عمل بھی چاہتے ہیں۔وہ رد عمل جو بھی ظاہر ہوگا وہ ان کے خلاف تو ہو نہیں سکتا کیونکہ طاقتور کے خلاف کمزور کا رد عمل نہیں ہوا کرتا۔خصوصاً اگر کمزور بد دیانت ہو چکا ہو، جھوٹا ہو چکا ہو، فریب کار ہو گیا ہو تو اس کا فریب اُس کے خلاف چلتا ہے وہ طاقتور کی بات کو خاموشی کے ساتھ قبول کرتا ہے لیکن اپنے غصے معاف نہیں کرتا۔نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس کے ردعمل کے طور پر دوسری شیعہ اقلیتوں پر سنی اکثر یتیں ظلم کرنا شروع کر دیں گی اور یہ خیال پیدا ہو جائے گا کہ دیکھو شیعوں کی وجہ سے ایک سنی اکثریت کے ملک کے اوپر یہ تباہی آئی ہے اور کھلے عام شیعوں کی حمایت کی گئی ہے۔یہ بات خطرے کا آلارم سعودی عربیہ بھی بجائے گی ، وہ منہ سے کہیں یا نہ کہیں، جتنی اُن کی ایران سے دشمنی ہے وہ ایک کھلی ہوئی بات ہے۔امریکہ کے بت کے سامنے سر جھکاتے ہوئے وہ