خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 606
خطبات طاہر جلداا 606 خطبه جمعه ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء اور دنیا کا شروع ہوا ہو ا عذاب بتا رہا ہے کہ خدا نے معاف نہیں کیا ۔ جب خدا نے یہاں معاف نہیں کیا تو آئندہ آپ کیسے خیر کی توقع لے کر آنکھیں بند کریں گے۔ جس کی خدا نے ستاری کرنی ہو اس دنیا میں بھی کرتا ہے۔ جس سے مغفرت کا سلوک کرنا ہو اس دنیا میں ہی کرتا ہے اور اس دنیا میں اس کے لئے کوئی نیا نظام جاری نہیں ہوتا۔ وہی نظام ہے جو اس دنیا میں جاری ہے۔ پس اس لحاظ سے مکر کرنے والوں کے لئے عَذَابٌ شَدِيدٌ کی جو خبر ہے وہ بالکل سچی ہے اور ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کو پورا ہوتے دیکھا ہے۔ پاکستان کے حالات پر نظر ڈال کر دیکھ لیں آپ میں سے اکثر پاکستانی ہیں جو میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ کو علم ہوگا کہ یہ کتنی سچی باتیں ہیں کہ یہ جو مکر کی پہلی قسمیں آپ کے سامنے رکھی ہیں یہ عَذَابٌ شَدِیدُ پر منتج ہوتی ہیں۔ اس کے سوا اور کوئی خیران سے وابستہ نہیں ہوتی ۔ دوسری قسم کا مکر سیاست کا دجل و فریب ہے۔ میں نے پہلے بھی اس کی مثال دی تھی کہ خاص طور پر آج کل کی جدید سیاست خواہ وہ مغرب میں کارفرما ہو یا مشرق میں عملاً دجل ہی کا دوسرا نام ہے، فریب کاری ہے۔ غریب ملک بھی فریب کاریوں میں مبتلا ہیں ، امیر ملک بھی فریب کاریوں میں مبتلا ہیں فرق صرف یہ ہے کہ امیر کا دجل چل جاتا ہے اور غریب کا چلتا نہیں لیکن غریب ملکوں کو یہ سوچنا چاہئے کہ اگر انہوں نے امیر ملکوں اور طاقتور ملکوں کے اس فریب سے بچنا ہے تو اُن کی پناہ گاہ مکر میں نہیں ہے کہ یہ جھوٹا خدا ہے۔ ان کی پناہ گاہ سچائی میں ہے اور بتوں کی پرستش کے بجائے ان کو خدا کی پرستش کی طرف واپس لوٹنا چاہئے ۔ آج مسلمان ممالک اپنے سیاست کے دجل کی خاطر امریکہ کو کھلم کھلا گالیاں دیں یا نہ دیں مگر آج سارے عالم اسلام کا دل گواہی دے رہا ہے کہ امریکہ نے مسلمانوں کے ساتھ دجل سے کام لیا ہے۔ بوسنیا کے مسلمانوں کی حالت دن بدن بد سے بدتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ قومی طور پر صفحہ ہستی سے اُن کو بالکل مٹا دینے کا منصوبہ ہے جو سامنے کھل رہا ہے۔ اتنے خوفناک مظالم مسلمانوں پر توڑے جارہے ہیں کہ خود مغربی مفکرین یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ہٹلر کے مظالم کو بھی ان مظالم نے شرما دیا ہے۔ پوری کی پوری قوم کی نسل کشی کا منصوبہ ہے جو آنکھوں کے سامنے عملی جامہ پہن رہا ہے کوئی نہیں ہے جو اس کے خلاف کوئی قدم اُٹھائے ان کے پروگرام جو سیاسی تبصروں کے پروگرام ہوتے ہیں وہ