خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 596
خطبات طاہر جلدا 596 خطبه جمعه ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء کر کے حضرت ابراہیم کو الزام سے بچایا جاتا ہے مگر میرے نزدیک بَلْ فَعَلَہ سے مراد یہ بھی لی جائے کہ اس بت نے ایسا کیا ہے اس سے پوچھ لوتو ہر گز جھوٹ نہیں کیونکہ اس کے نتیجہ میں کسی ایک شخص کو بھی دھوکہ نہیں ہوسکتا تھا کہ واقعتا ابراہیم یہی کہنا چاہتے ہیں اور یہ بڑا بت واقعہ چھوٹے بتوں کو مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر سکتا تھا۔پس ایسا بیان جو دھوکہ دینے کی خاطر نہیں بلکہ سچائی دکھانے کی خاطر ہو بظاہر خلاف واقعہ ہے لیکن نیت بھی سچائی کی ہے اور نتیجہ بھی سچائی نکلتا ہے تو اس کو جھوٹ کہنا غلط ہے۔اب کوئی آدمی روز مرہ کی باتوں میں بھی ایسی بات کر دیتا ہے کہ اس کو زمین کھا گئی اس کو آسمان کھا گیا اب کون پاگل ہے جو اس کو جھوٹا قرار دے گا۔یہ محاورہ ہے سچائی کے اظہار کے لئے نہ کہ چھوٹی بات کے بیان کی خاطر تو اس کو جھوٹ نہیں کہا جاتا اس لئے میں نے جھوٹ کی یہ تعریف کی کہ ایسابیان جو واقعہ کے خلاف بھی ہو دھوکہ دہی کی خاطر بیان کیا گیا ہو اور اس سے لوگ دھو کہ کھا سکتے ہوں۔یہ تینوں باتیں جب اکٹھی ہو جائیں تو کلام جھوٹا ہو جاتا ہے لیکن بعض افعال ہیں جن میں لفظ استعمال نہیں ہوتے ان میں بھی اگر نیت دھوکہ دینے کی ہو اور جھوٹ دکھانے کی نیت ہو تو وہ افعال مکر میں داخل ہو جاتے ہیں مگر آنحضرت مہ نے فرمایا کہ جنگ کے وقت مکر سے کام لیا جاسکتا ہے ایسا مکر جو جھوٹ نہ ہولیکن دشمن کو غلط تاثر پیدا کر دے۔پس اس حد تک مکر کی اجازت ہے جہاں بڑے مصالح خطرے میں ہوں اور جھوٹ بولے بغیر کوئی منفعت حاصل کی جاسکتی ہو۔وہ دراصل ذہانت کی ایک کھیل ہے فرمایا الحرب خُدعَةٌ (بخاری کتاب الجہاد حدیث نمبر: ۲۸۰۴۰) کہ لڑائی میں تو دونوں طرف سے چالبازیاں ہوتی ہیں دشمن جھوٹ بول کر بھی چالبازیاں کرتا ہے۔مومن کی زبان بند ہے وہ جھوٹ بول نہیں سکتا لیکن وہ Intelligence کے ذریعہ بہتر حکمت کے استعمال کے ذریعہ ایسی حرکتیں ضرور کر سکتا ہے جس سے دشمن غلط نتیجے نکالے اور وہ غلط نتیجہ نکالنادشمن کی ذمہ داری ہوگی کیونکہ ایک دوسرے کو ہلاک کرنے کی خاطر ، ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے لئے دونوں اکٹھے ہوئے ہیں دونوں کو عقل سے کام لینا چاہئے۔یہ کھلا چیلنج ہے ان شرائط کے ساتھ وہاں مکر کی اجازت ہے اُسے مکر خیر کہیں گے مگر بد نہیں کہیں گے۔باقی تمام امور میں ہر وہ مگر جس میں بدی کی نیت ہو گناہ ہے اور اس سے پر ہیز لازم ہے لیکن ہماری سوسائٹی میں مکر بھی جھوٹ کی طرح روز مرہ داخل ہو چکا ہے۔اتنی دھوکہ بازی ہے کہ تجارت میں دھوکہ ہو گیا ، لین دین کے معاملات میں دھو کے ہو گئے ، گواہیوں میں