خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 597
خطبات طاہر جلد ۱۱ 597 خطبه جمعه ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء اگر جھوٹ نہیں بولا جار ہا تو دھوکے سے کام لیا جارہا ہے، رشتے مانگنے میں دھو کے سے کام لیا جارہا ہے، رشتے دیتے ہوئے دھوکوں سے کام لیا جا رہا ہے۔ساری سوسائٹی میں جو دکھ پھیلے ہوئے ہیں ان میں اگر آپ تلاش کریں گے تو جھوٹ کے بعد سب سے زیادہ مجرم مکر دکھائی دے گا۔یوں لگتا ہے کہ مکاری کے بغیر دنیا کے معاملات چل ہی نہیں سکتے۔قرآن کریم نے اسے شرک قرار دیا اور شرکاء کی فہرست میں اسے داخل فرمایا۔ان جھوٹے شریکوں کی فہرست میں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں مگر تمہیں ان کا تصور بہت خوبصورت بنا کر دکھایا گیا ہے اور تم سمجھتے ہو کہ اس جھوٹے خدا کے ذریعہ تم اپنے کام لے لو گے مگر نتیجہ لازماً تمہیں نقصان ہوگا۔تم صراط مستقیم سے ہٹ جاؤ گے اور طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا ہو جاؤ گے۔پس جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے ہمارا معاشرہ کلیہ مکر سے پاک ہونا چاہئے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مد مقابل پر اگر جان لیوا دشمن بھی ہو تب بھی جھوٹ سے کام نہیں لینا لیکن مکر سے ان معنوں میں کہ حکمت عملی ایسی اختیار کی جائے کہ جس سے خود دشمن نتیجہ نکالے اُس حد صلى الله تک آنحضرت مہ کے ارشاد کے تابع مکر جائز ہے اور اسے مکر خیر کہیں گے ، ہر وہ مکر جو کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے یا اپنے ناجائز حق لینے کے لئے استعمال کیا جائے وہ مکر بد ہے۔اس مکر کا جس کا میں نے ذکر کیا ہے یعنی جنگ کے دوران مکر اس میں اپنی جان کی حفاظت کی گئی ہے۔جو انسان کا جائز حق ہے اس مکر کے نتیجہ میں فریب کاری کے ذریعہ کوئی ایسی چیز طلب نہیں کی گئی جس کا انسان کو حق نہ ہو۔زندہ رہنے کا حق امن کا حق ہے، دشمن یہ دونوں حق چھینے کے لئے نکالا ہے۔پس اپنے حقوق کو بچانے کے لئے نیک نیت کے ساتھ جھوٹ بولے بغیر حکمت سے کام لیتے ہوئے مفادات کی حفاظت کر لینا۔یہ مکرسیٹی یعنی برا مکر نہیں کہلا سکتا۔ایک سچا مکر ہے اور نیک مکر ہے لیکن اس کے سوا سوسائٹی میں جتنی باتیں پائی جاتی ہیں ان میں مکر کی یہ تعریف داخل ہے اور آپ ذرا تلاش کر کے دیکھیں ہر جگہ آپ کومل جائے گی کہ ایسا مکر کیا جاتا ہے جس میں اپنے حق سے زیادہ ناجائز لینے کی کوشش ہوتی ہے یا مد مقابل کو اس کے جائز حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔بیاہ شادی اور رشتوں میں تو یہ مکر بہت ہی چلتا ہے لیکن اس کے علاوہ بھی معاشرہ میں مکر وفریب کی اتنی عادتیں پڑ چکی ہیں کہ ہمارے ہاں تو تاریخی طور پر کہتے ہیں کہ کسی عورت نے اگر کسی کے اوپر الزام لگا نا ہوکہ مجھ پر ظلم کیا گیا ہے مثلاً