خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 595
خطبات طاہر جلد ۱۱ 595 خطبه جمعه ۲۸ اگست ۱۹۹۲ء ہو کہ ان بتوں کا کوئی بھی وجود نہیں۔محض دھوکہ ہی دھوکہ ہے پس ایک نام خدا نے مکر بیان فرمایا وَصَدُّوا عَنِ السَّبِيلِ وہ مر کرتے ہیں، مکر کو خدا بناتے ہیں اور یہ باتیں اُن کو اچھی لگتی ہیں جتنا بڑا مکار ہو اس کا مکر اُتنا ہی زیادہ خوبصورت کر کے دکھایا جاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں نے کمال کر دیا۔ایسے بڑے بڑے فریب کئے ہیں کہ کوئی اُن کو سمجھ نہیں سکا کوئی میری نیتوں کی گنہ کو پانہیں سکا پس جتنا بڑا فریبی ہو اتنا ہی زیادہ وہ اپنے فریب کو خوبصورت سمجھتا ہے لیکن نتیجہ کیا نکلتا ہے وَصُدُّوا عَنِ السَّبِيلِ که سب مکر کرنے والے سچی اور سیدھی راہ سے محروم رہ جاتے ہیں اور ان کے مکر خود ان کی راہ میں آ کھڑے ہوتے ہیں اور یہ صراط مستقیم کی خوبیوں اور منافع سے عاری ہوکر ایک باطل زندگی بسر کرنے لگتے ہیں۔چنانچہ اس مضمون کو مزید کھولتے ہوئے فرمایا وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ کیونکہ صراط مستقیم کے بعد ضالین سے بچنے کی دعا سکھائی گئی تھی۔فرمایا کہ ان کا مکر انہیں کہاں لے جاتا ہے صراط مستقیم سے محرومی کے بعد یہ ضالین میں شمار ہو جاتے ہیں اور جن کو اللہ گمراہ ٹھہرادے اُن کے لئے پھر کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔تو کیسے مکر ہیں ، کیسے فریب ہیں جن کے نتیجہ میں انسان راہ سے کھویا جائے اور ہر اچھی چیز سے محروم رہ کر بدیوں کی طرف بگٹٹ دوڑنے لگے جس کا انجام ذلالت کے سوا کچھ نہ ہو یہ تو کوئی نفع کا سودا نہیں۔مکر کا بت جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انسانی معاشرے کو طرح طرح کے دکھوں میں مبتلا کر دیتا ہے اور انسان بحیثیت انسان کے بھی محروم رہتا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے بیان فرمایا لیکن جو معاشرہ مکر میں مبتلا ہو جائے وہ پھر سارا معاشرہ گمراہ ہو جاتا ہے اور ہماری اکثر معاشرتی برائیاں جھوٹ کے بعد مکر سے منسلک ہوتی ہیں۔مکر بھی جھوٹ ہی کی قسم ہے مگر ایک فرق یہ ہے کہ جھوٹ زبان سے خلاف واقعہ بات کو دھوکے کی خاطر بیان کرنے کو کہتے ہیں۔بعض دفعہ خلاف واقعہ بات دھوکے کی خاطر نہیں بلکہ تعجب کے اظہار کے لئے بیان کی جاتی ہے ایسی بات جس کے متعلق کہنے والے کو یقین ہوتا ہے کہ وہ سراسر اس سے دھو کہ نہیں کھائے گا بلکہ حقیقت پا جائے گا اس کو جھوٹ نہیں کہتے۔جیسا کہ حضرت ابراہیم نے بڑے بت کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس سے پوچھ لوکس نے ان کو مارا ہے؟ اب وہ بات ایسی تھی کہ بڑے بت سے کیسے پوچھا جا سکتا تھا۔بَلْ فَعَلَهُ (الانبیاء ۶۴) کی ایک ضمیر اس بت کی طرف بھی جاتی ہے اور جماعت احمدیہ میں جو تفسیر کی جاتی ہے اس کے سوا اور معنی