خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 594
خطبات طاہر جلد ۱۱ 594 خطبه جمعه ۲۸ اگست ۱۹۹۲ء اور بتوں کے ذکر چلیں گے جن کو قرآن کریم بے پردہ کر کے ہمارے سامنے رکھتا ہے اور ہمیں مخاطب فرما کر یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ گو ہم بھی توحید کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کچھ نہ کچھ شرک کے مخفی پہلو ہمارے اندر موجود رہتے ہیں۔یہ آیت کریمہ جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے اس کا ترجمہ کرتا ہوں اَفَمَن هُوَ قَابِعُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ یہاں من سے مراد خدا تعالیٰ ہے۔پس وہ خدا جو ہر جان کے اوپر پوری طرح نگران کھڑا ہے کہ وہ کیا کمار ہی ہے اور کیا حرکتیں کر رہی ہے کیا اُس کو چھوڑ کر تم کوئی اور معبود بھی اختیار کر سکتے ہو؟ وہ ایسا خدا ہے جس کی نظر سے تمہارا کوئی فعل بچ نہیں سکتا، نیتوں کی باریک ترین آماجگاہوں سے وہ واقف ہے، جہاں بدی کی نیتیں بھی پلتی ہیں اور جہاں نیکیوں کی نیتیں بھی پلتی ہیں ان جگہوں پر اس کی نگاہ ہے۔اس سے بچ کر مخفی رہ کر تم کوئی فعل نہیں کر سکتے وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاء اور اس کے باوجود حال یہ ہے کہ ان لوگوں نے خدا کے لئے شریک بنارکھے ہیں قُلْ سَتُمُوهُم ان سے کہو کہ ان کے نام تو بتاؤ وہ بت گنا کر تو دکھاؤ کہ وہ کون کون سے بت ہیں۔لَمْ تُنبِتُونَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ کیا تم خدا کوزمین میں ہونے والی ان باتوں سے آگاہ کرو گے جن سے واقف نہیں؟ اس سوال کا جواب پہلے دیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو تمہارے دل کے مخفی در مخفی حالات سے بھی واقف ہے اس کو چھوڑ کر تم کہاں جاؤ گے کس کی پناہ میں آؤ گے؟ کس کے پردے کے پیچھے چھپو گے؟ بتوں کے ذکر میں فرمایا کہ تم نے جو بت بنا رکھے ہیں ان کے نام تو بتاؤ اُن کے حالات تو بیان کرو کیا تم زمین میں ہونے والی اُن باتوں سے خدا کو آگاہ کرو گے جو خدا کے علم میں نہیں ؟ یعنی خدا کا کوئی شریک نہیں، اس کے ساتھ کوئی جھوٹا بت نہیں ، یہ تو خدا کے علم میں ہے اور جو تم نے بت بنائے ہوئے ہیں اُن کی کوئی حقیقت نہیں۔پس کوئی خدا، خدا کے سوا نہیں۔یہ وہی مضمون ہے جو بیان ہورہا ہے۔فرماتا ہے بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُ وا مَكْرُهُم خدا کے سوا شریک تو نہیں ہے لیکن مکر کا ایک بت ضرور ہے جو اُن لوگوں نے بنا رکھا ہے۔پس سموهُمْ کے بعد خدا نے خود ایک بت کا نام لے دیا ہے۔فرمایا تم تو نام گنا نہیں سکتے کیونکہ تم ان بتوں کو پہچانتے نہیں۔تم نے خدا کے سوا فرضی مدد گار بنارکھے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔آؤ ہم تمہیں اُن کی حقیقت سے آگاہ کریں تا کہ تمہیں علم