خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 593 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 593

خطبات طاہر جلد ۱۱ 593 خطبه جمعه ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء مکر کائت انسانی معاشرے کو دکھوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔مغربی قوموں کا مکر ان کا دہرا میعار ہے۔( خطبه جمعه فرموده ۲۸ را گست ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ تلاوت کی۔أَفَمَنْ هُوَ قَابِمُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ قُلْ سَمَّوْهُمْ أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مَكْرُهُمْ وَصُدُوا عَنِ السَّيْلِ وَمَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (الرعد : ۳۴) پھر فرمایا:۔b گزشتہ خطبوں میں تبتل الی اللہ کا مضمون بیان ہوتا رہا ہے اور آج بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔میں جماعت کو یہ سمجھا رہا ہوں کہ ہر انسان نے اپنے لئے خدا کے سوا کچھ بت گھڑ رکھے ہوتے ہیں اور اکثر صورتوں میں یہ بت خود انسان کی اپنی نظر سے بھی مخفی رہتا ہے ورنہ ممکن نہیں کہ کوئی بھی موحد، توحید کا بندہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی خدا کا شرک کرے لیکن قرآن کریم نے بڑی تفصیل سے ان بتوں کا ذکر فرمایا ہے اور ایک ایک بت کو ننگا کر کے ہمارے سامنے لاکھڑا کیا ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی برائیوں اور خطرات سے بھی خوب آگاہ فرما دیا ہے اس لئے قرآن کریم کے حوالے سے پہلے ایک بہت ہی بڑے بت کا ذکر کر چکا ہوں یعنی جھوٹ کا۔اب کچھ