خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 589 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 589

خطبات طاہر جلد ۱۱ 589 خطبه جمعه ۲۱ / اگست ۱۹۹۲ء پھر آنحضور ﷺ نے فرمایا اچھا تم یوں کرو کہ اندازے سے جائیداد کے دو حصے کر لو اور پھر قرعہ ڈال لو جس کے حصہ میں جو جائیداد کا حصہ آئے لے لے اور اگر وہ سمجھتا ہو کہ قرعہ میں بھی دوسرے کو کچھ پل گیا ہے تو پھر اس کو چھوڑ دے۔اس خیال کو دل سے نکال دے کہ بھائی کو کچھ زیادہ مل گیا ہے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے ابتلاء سے ٹل گئے۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں فرمایا۔آج دنیا کی حالت بہت نازک ہوگئی ہے جس پہلو اور رنگ سے دیکھو جھوٹے گواہ بنائے جاتے ہیں۔جھوٹے مقدمہ کرنا تو بات ہی کچھ نہیں جھوٹے اسناد بنالئے جاتے ہیں۔۔۔یہ آج سے سو سال پہلے کی بات ہے۔آپ اندازہ کریں کہ اُس زمانہ میں جبکہ مقابلہ جھوٹ بہت ہی کم تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جھوٹ سے کیسی کراہت تھی کہ جو تھوڑا سا بھی جھوٹ دکھائی دیتا تھا اس سے طبیعت کو گھن آتی تھی اور یوں لگتا تھا کہ ہر طرف جھوٹ پھیل رہا ہے۔آج کے زمانہ میں جو حال ہو چکا ہے وہ نا قابل برداشت ہے۔یہی باتیں سو گنا بڑھالیں تو آج کی حالت یہ بنتی ہے۔فرماتے ہیں۔۔۔۔کوئی امر بیان کریں گے تو سچ کا پہلو بچا کر بولیں گے۔۔۔66 کیسا پیارا کلام ہے سچ کا پہلو بچا کر بولیں گے۔طرز ایسی اختیار کریں گے کہ سچ کا پتا نہ لگ جائے ، جو سچ بولنے والے بھی ہیں وہ سچ سے دامن بچا کر اس رنگ میں بیان کردیں گے کہ سچ کی طرف کوئی بات اشارہ نہ کر جائے۔"۔۔اب کوئی ان لوگوں سے جو اس سلسلہ کی ضرورت نہیں سمجھتے پوچھے کہ کیا یہی وہ دین تھا جو آنحضرت مہ لے کر آئے تھے؟" آپ تو وہ دین لے کر آئے تھے جس کا میں نے ابھی اس حدیث میں ذکر کیا ہے لیکن آج عملاً کیا ہو رہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ پوچھے ان سے کوئی کہ کیا یہ وہی دین تھا جو آنحضرت مہ لے کر آئے تھے۔