خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 585
خطبات طاہر جلد ۱۱ 585 خطبه جمعه ۲۱ /اگست ۱۹۹۲ء تو واقعہ ایک قطرہ سمندر بن جایا کرتا ہے اور ساری دنیا میں اس زمانے سے لے کر آج تک چودہ سوسال سے کچھ زائد عرصہ ہو گیا کہ کروڑوں اربوں مسلمان کو تقویٰ کی تھوڑی یا بہت تو فیق ملی وہ اس دل سے پھوٹا تھا جس کی طرف اس وقت حضرت اقدس محمد مصطفی میں اللہ کی انگلی اشارہ کر رہی تھی اور آپ فرما رہے تھے کہ تقویٰ یہاں ہے تقویٰ یہاں ہے تقویٰ یہاں ہے۔پس ہمیں اس دل سے تقویٰ سیکھنا چاہئے اور اس دل کی اداؤں سے آشنائی کے بغیر ہم اُس دل سے تقویٰ کیسے سیکھیں گے۔پس سیرت حضرت محمد مصطفی علیہ کے خصوصاً ان حصوں کے مطالعہ کا شوق اور ذوق پیدا کرنا چاہئے اور جستجو کے ساتھ مطالعہ کرنا چاہئے۔جہاں آنحضرت یہ مختلف تعلقات کی آزمائشوں میں اپنی سیرت کے جلوے دکھاتے رہے وہ آزمائشوں کے وقت ہیں جو ہم سب پر آتے ہیں لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو ان آزمائشوں پر اس طرح پورا اترتے ہیں جیسے آنحضور ﷺے ان آزمائشوں پر پورا اُترے۔پس تقویٰ سیکھنا ہے تو حضور اکرم ﷺ کی زندگی کے حالات پر گہری نظر ڈالنا اور سیرت کا محض صلى الله سرسری مطالعہ کرنا بلکہ گہری نظر سے اس دل میں ڈوب کر آپ کی سیرت کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔آنحضرت ﷺ کے متعلق جو باتیں آپ سنتے ہیں وہ ایک عام انسان کی باتیں نہیں ہیں۔اس لئے جب آپ وہ باتیں سنتے ہیں تو سطحی حسن سے متاثر ہوکر وہیں بات نہ چھوڑ دیا کریں۔ایک انسان باغ میں سے گزرتا ہے اور پھولوں کا رنگ دیکھتا ، خوشبو بھی سونگھتا ہے تو اُس نے بھی ضرور اس باغ سے فیض پایا لیکن ایک شہد کی مکھی ہے جو اُس کے دل میں اترتی ہے، اُس کا رس چوستی ہے، اس کا الله فیض کچھ اور رنگ رکھتا ہے۔پس آنحضرت ﷺ کی سیرت میں بہت گہرائی ہے اس لئے بڑی محبت اور پیار کے ساتھ اُس دل میں اتر کر تقویٰ کا رس لینے کی کوشش کریں جو حضرت محمد مصطفی امیہ کے۔میں دھڑکتا ہے فرمایا۔ایک انسان کے لئے یہی برائی کافی ہے کہ وہ مسلمان بھائی کی تحقیر کرے۔ہر مسلمان کی تین چیزیں دوسرے مسلمان پر حرام ہیں۔اُس کا خون، اُس کی آبرو اور اُس کا مال۔(مسلم کتاب البر والصلۃ حدیث نمبر : ۴۶۵۰ اکثر مسلم ممالک میں تو خون بھی حلال ہو گیا ہے اور دوسری دو چیزیں تو پہلے ہی حلال تھیں بدنصیبی یہ ہے کہ پاکستان میں شاید اس وقت دوسرے تمام ممالک کی نسبت بھائی کا خون زیادہ ارزاں