خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 586 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 586

خطبات طاہر جلد ۱۱ 586 خطبه جمعه ۲۱ /اگست ۱۹۹۲ء ہو چکا ہے۔بھائی کا تو اور معاملہ ہے، ہر روز ایسی اندوہناک خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کسی نے اپنی ماں کو قتل کر دیا، اپنے باپ کو قتل کر دیا، اپنی بہن کو قتل کر دیا، اپنے بیوی بچوں کو قتل کر دیا اور روز مرہ کا دستور بن چکا ہے کہ ادنی سی ناراضگی پر انسانی خون لے لیا جائے اور چھوٹی چھوٹی بات پر دھمکی دینا عام بات بن چکی ہے کہ ہم تمہاری جان لے لیں گے کوئی خدا کا خوف باقی نہیں رہا۔اس کا آغاز آنحضور کے فرماتے ہیں بے رخی سے ہوا تھا۔جب سوسائٹی میں ایک دوسرے سے بے رخی پیدا ہو جائے تو سوسائٹی جو سفر اختیار کرتی ہے یہ اُس کی آخری منزل ہے۔تو بے رخی کو معمولی نہ سمجھیں۔جب آپ کے پاس کوئی آتا ہے تو اُس کی عزت افزائی کریں۔اگر وقت نہ بھی ہو تو جہاں تک ممکن ہو حسن سلوک کے ذریعہ اُس کے دل میں یہ بات جا گیزیں کرنے کی کوشش کریں کہ آپ اُس سے بڑھ کر نہیں ہیں آپ اُس کی خاطر چاہتے ہیں، اُس کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں لیکن وقت کی مجبوری ہے۔اگر اس بنیاد پر آپ قائم ہو جائیں تو خیر کی انگلی عمارت لازماً تعمیر ہوگی اور شر کے ہر پہلو سے آپ بچتے چلے جائیں گے لیکن یہاں اگر غلط پتھر رکھا گیا اور بے رخی کے اوپر آپ کے اخلاق کی تعمیر ہوئی تو اس کی بالائی منزلوں پر پھر خون لکھا ہوا ہے۔اس منزل تک پہنچنا پھر لازماً ایک وقت کی بات ہے۔جو قو میں اس نصیحت سے بے اعتنائی کرتی ہیں وہ پھر کچھ عرصہ کے بعد اُس منزل تک بھی پہنچ جایا کرتی ہیں۔میں دوبارہ بتا تا ہوں کہ تین چیزیں حرام ہیں۔مسلمان کا خون ، اُس کی آبرو اور اُس کا مال۔آبرو تو اتنی حلال ہو چکی ہے کہ راستہ چلتے ایک دوسروں کے سروں سے ٹوپیاں اچھالی جاتی ہیں، بے عزتیاں کی جاتی ہیں سخت کلام کی جاتی ہے، گندی گالیاں دی جاتی ہیں۔ہمارے ملک میں دیہات میں تو بدنصیبی سے ہل چلانے والا اور کچھ نہیں تو جانوروں کو ہی گالیاں دیتا چلا جاتا ہے اور بڑی غلیظ اور گندی گالیاں اس لئے میں خاص طور پر پاکستان کو اور ہندوستان کو بھی نصیحت کرتا ہوں لیکن پاکستان کو بہت زیادہ نصیحت کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ایسا ملک ہے جس کی بھاری اکثریت حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی غلامی کا دعوی کرتی ہے۔اپنی زبان کو پاک کریں ، اپنے بھائی کو اپنی زبان کے شرسے بچائیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ باقی سب برائیاں بھی پھر ٹی شروع ہو جائیں گی۔جہاں تک مال کا تعلق ہے وہ تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہر غیر کا مال حلال ہے۔پہلے مولویوں