خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 584
خطبات طاہر جلد ۱۱ 584 خطبه جمعه ۲۱ / اگست ۱۹۹۲ء مجھے ایک صاحب نے خط لکھا کہ فلاں بڑے آدمی کو اس وقت تو بڑے آدمی سے بے چارہ کوئی زیادہ متاثر تھا لیکن مثال کے طور پر ذکر کر رہا ہوں۔ہر بات میں اس کی تائید نہیں کر رہا) لے کر میں ربوہ گیا۔وہاں فلاں صاحب مسجد میں باتیں کر رہے تھے اور میں اُن کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا تو اُن کو گو یا پتا ہی نہیں کہ کتنا بڑا آدمی ہے اور وہ اپنی باتوں میں مصروف رہے۔تو واقعہ یہ ہے کہ اعراض میں دراصل یہ بات بھی داخل ہے کہ جب کوئی شخص کسی کے پاس پہنچتا ہے تو خواہ انسان باتوں میں مصروف ہو اس کی طرف کچھ نہ کچھ التفات چاہئے ، آدمی اشارہ سے ہی کچھ نہ کچھ عرض کر دے کہ میں ابھی فارغ ہوتا ہوں یا السلام علیکم کہہ کر بات کر کے اور اجازت لے کر پھر دوسری باتوں میں مصروف ہو جائے۔تو جماعت احمدیہ کو بہت اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھانا چاہئے اور یہ جو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بے رخی نہ برتو ، اس سے آپ بچیں گے تو اس سے بعد کی چیزوں سے بھی بچ جائیں گے۔یہ پہلا ٹھوکر کا قدم ہے جس سے آپ پہچان سکتے ہیں کہ آپ کے دل میں کوئی ریاء، کوئی جھوٹ ، کوئی غیر کے لئے محبت کی کمی تو نہیں ہے اور اسی طرح آپ اپنے نفس کے اندرونے کی باریک پر باتوں بھی آگاہ صلى الله ہو سکتے ہیں۔پھر آنحضرت میں یہ ایک اور رنگ میں اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جیسا خدا نے حکم دیا ہے اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو، مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اسے رسوا نہیں کرتا اُسے حقیر نہیں جانتا۔اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے۔(مسند احمد مسند المکین حدیث نمبر: ۱۵۴۴۴۰) بیان کرنے والے کی تشریح ہے یعنی مقام تقویٰ دل ہے، یہ بھی مضمون میں درست ہو سکتا ہے مگر میں تو اس مضمون کو اسی طرح دیکھ رہا ہوں کہ حضرت محمد مصطفے مے کا دل تقویٰ کی آماجگاہ ہے۔اگر کسی نے تقویٰ سے آشنائی حاصل کرنی ہے تو اس دل سے آشنائی حاصل کرے۔تقویٰ کے انداز سیکھنے ہیں تو محمد مصطفے مے کے دل کی دھڑکنوں سے وہ انداز سیکھے۔تو تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے سو فیصد درست بات ہے کہ محمدمصطفی اس کے دل ہی کا تقویٰ تھا جو بعد میں لاکھوں کروڑوں دلوں کا تقویٰ بن گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ایں چشمہ رواں کہ مخلق خداد ہم یک قطره زبحر کمال محمد است ( در مشین فارسی : ۸۹)