خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 583 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 583

خطبات طاہر جلد ۱۱ 583 خطبه جمعه ۲۱ / اگست ۱۹۹۲ء سے اس دیکھنے والے غیر مسلم کو یہ معلوم ہو گیا کہ آنحضور کی یہ بات پسند نہیں فرمار ہے کہ کوئی اور شخص آکر ہماری باتوں میں دخل دے اور چونکہ وہ دخل دینے والا چونکہ اندھا تھا اس لئے اس کو وہ بل دکھائی نہیں دیئے اس کی دل شکنی نہیں ہوئی۔اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم میں فرمایا عَبَسَ وَتَوَلَّى أَنْ جَاءَهُ الْأَعْلى (عبس :۲-۳) کہ دیکھو محمد صلى الله نے ماتھے پر بل ڈالا اور چہرہ دوسری طرف کر لیا اس لئے کہ اندھا اس کے پاس اپنے دین کی باتیں پوچھنے کے لئے آیا۔( ترمذی کتاب التفسیر حدیث نمبر: ۳۲۵۴۰) پرانے مفسرین نے تو یہ لکھا ہے کہ یہ ناراضگی کا اظہار ہے لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی بہت ہی لطیف تفسیر بیان فرمائی ہے اور فرمایا کہ یہ ناراضگی کا اظہار نہیں بلکہ حضرت محمد مصطف مے کے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا ذکر ہے اور وہی ذکر ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ اندھے کو زبان سے کچھ نہیں کہا اس لئے جب اس کی دل شکنی نہیں ہوئی تو کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ اخلاق سے کسی معنی میں بھی گری ہوئی بات تھی۔آپ نے تو مہمان کی عزت افزائی فرما دی جب اس کی طرف سے اعراض کیا اور ماتھے پر ایک آدھا بل آیا ہو گا جس کا ذکر خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔تو محبت کے تقاضے جب اس طرح متضاد بھی ہو جا ئیں تو ایک لطیف روح کس شان کے ساتھ اُن تقاضوں کو ادا کرتی ہے لیکن غریب سے غریب اور آنکھوں سے معذور کے لئے بھی آنحضور ﷺ نے کبھی کوئی دل شکنی کی بات نہیں کی۔پس میں یہ بات اس لئے کھول رہا ہوں کہ بعض دوسرے مسلمان بھی اس خطبہ کو سنتے ہیں وہ بھی یہ تفسیریں سنتے ہیں۔یہ رسول اکرم ﷺ پر غلط الزام ہے کہ آپ پر ناراضگی کے اظہار کے طور پر خدا تعالیٰ نے یہ واقعہ بیان فرمایا ہے۔آپ نے تو اخلاق سے ذراسی بھی گری ہوئی کوئی بات نہیں کی بلکہ نہایت اعلیٰ درجے کے اخلاق کا اظہار فرمایا اپنے غریب غلام کی دلداری فرمائی اور اس کی دل شکنی سے اعراض کرتے ہوئے آنے والے مہمان کی عزت افزائی بھی فرما دی اور اس بار یک پل صراط سے بغیر لڑکھڑائے ہوئے گزر گئے۔تو محبت کے تقاضے بعض دفعہ متضاد بھی ہوں تو ذہین اور لطیف جذبات اور لطیف فکر کا مالک انسان ان سب تقاضوں کو بیک وقت پورا کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی نصرت فرماتا ہے کجا یہ کہ ایک انسان دوسرے سے بے رخی برتنے کا عادی ہو۔بعض دفعہ یہ چیز بڑی بڑی ٹھوکروں کا موجب بن جاتی ہے۔