خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 569 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 569

خطبات طاہر جلدا 569 خطبه جمعه ۱۴ راگست ۱۹۹۲ء پر آکر جگہ جگہ اٹکتا تھا تو ماں نے کہا کہ مجھے پکڑا دو۔ میں نے تجھے اوپر جا کر یا نیچے جا کر دے دوں گی چے جا کر دے دوں کیا جدھر بھی رخ تھا تو بچے نے کہا کہ ہاں ہاں کہ میں آپ کو اچھی طرح جانتا ہوں کہ کچھ کھا کے دیں گی اس طرح نہیں دیں گی ۔ اب وہ ماں کی عادت سے واقف تھا اور پہچان گیا تھا۔ بچے بڑے ذہین ہوتے ہیں ۔ ماں باپ سمجھتے ہیں کہ ہم چالا کی کر کے دھوکا دے دیں گے ۔ دھوکہ نہیں دے سکتے وہ اپنے نفس کو دھوکہ دیتے ہیں اور جس بد عادت کا معاملہ وہ بچے سے کرتے ہیں وہ بچہ پھر آئندہ اپنی نسلوں سے اسی بد عادت کا معاملہ کرتا ہے اور اپنے ملنے جلنے والوں سے اپنے تعلقات کے دائرہ میں اسی بد عادت کو پھیلاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا۔ بدترین آدمی تم اُس کو پاؤ گے جو ذو الوجهين ہو۔ جس کے دو چہرے ہوں سوسائٹی میں یہاں بیٹھتا ہے تو اور چہرہ بنا لیتا ہے اور وہاں بیٹھتا ہے تو اور چہرہ بنا لیتا ہے۔ (مسلم کتاب البر والصلۃ حدیث نمبر : ۴۷۱۴) کسی ایک جگہ جاتا ہے تو اُس کے دشمنوں کے خلاف باتیں شروع کر دیتا ہے ۔ دوسروں کے پاس جاتا ہے تو اُس سے پہلے کے خلاف باتیں شروع کر دیتا ہے۔ تو ایسے شخص ہیں جو سوسائٹی میں نفرتیں ہوتے اور بہت سی برائیوں کو پیدا کرنے والے ہوتے ہیں۔ تو وہ شخص بڑا جھوٹا ، منافق اور چغل خور ہے۔ پس یہ تین بیماریاں اس عادت سے نکلتی ہیں۔ پھر آنحضور ﷺ نے آخری نکتہ کی بات یہ بیان فرمائی کہ کوئی شخص اُس وقت تک کامل ایمان حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ مزاج میں بھی جھوٹ کو ترک نہیں کر دیتا۔ یہ بہت ہی پاکیزہ بیان ہے اور ایک ایسا لطیف بیان ہے جسے پڑھ کر روح وجد میں آتی ہے فرمایا کہ ایمان کامل نہیں ہو سکتا جب تک جھوٹ سے ایسی نفرت نہ ہو کہ جھوٹ سے نفرت اُس کے مزاج کا حصہ بن چکی ہو ۔ مجھے یاد ہے کہ اس لحاظ سے بچپن میں میری طبیعت پر جو سب سے زیادہ اثر تھا وہ حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تھا۔ اُن کے کردار میں سچائی ایسی گہرائی سے ثبت تھی کہ نا ممکن تھا کہ جھوٹ کا کوئی معاملہ ان کے قریب تک پہنچے۔ بات بھی سچی ، کردار بھی سچا، بچوں میں سچائی دیکھنے والیں اور ان کے ماحول میں جھوٹ پنپ ہی نہیں سکتا تھا۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ آپ کے سامنے کوئی جھوٹی بات کرے تو یہ حدیث پڑھتے ہوئے فور اجو ایک وجود میرے سامنے اُبھرا ہے وہ حضرت اقدس اماں جان کا